بلوچستان ہائیکورٹ میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

یہ درخواست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ کی جانب سے سپریم کورٹ کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی۔

ہائیکورٹ کے قائم قام چیف جسٹس اعجاز سواتی اور جسٹس عامر رانا پر مشتمل بینچ نے درخواست کی سماعت کی جس کے دوران علی احمد کرد ایڈووکیٹ اور ساجد ترین ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلا درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے۔

کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا نے دوران سماعت موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری غیر قانونی اوربدنیتی پر مبنی ہے۔

انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان عدنان بشارت نے یہ اعتراض اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل پانچ کے تحت درخواست کے ساتھ حلفیہ بیان جمع کرانا ضروری ہے جو کہ اس درخواست کے ساتھ جمع نہیں کرایا گیا۔

درخواست گزار کے وکلا کی استدعا پر حلفیہ بیان جمع کرانے کے لیے کچھ دیر کے لیے عدالت نے درخواست کی سماعت ملتوی کی ۔ جب دوبارہ درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو وکلا نے عدالت میں ڈاکٹر ماہ رنگ کا حلفیہ بیان جمع کرایا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست پر مختلف اعتراض اٹھاتے ہوئے عدالت سے اسے مسترد کرنے کی استدعا کی۔

فریقین کے وکلا کے دلائل کے بعد ہائیکورٹ کے فاضل بینچ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا۔

درخواست کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کامران مرتضٰی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمارے خیال میں سرکاری کی جانب سے غلط آرڈر پاس کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کیس پر بحث ہوگئی ہے اور اچھے کی امید رکھتے ہیں۔

ہائی کورٹ میں ماہ رنگ بلوچ کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد عدالت کے باہر بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ آج کی سماعت سے اور صرف بلوچستان کے لوگوں سے آرٹیکل 5 کا مطالبہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ہم باقی پاکستان سے مختلف ہیں۔

انہوںنے کہا کہ بلوچستان، پختونخوا اور گلگت کے معدنیات کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس سے ایک بات واضح ہوگئی کہ یہ ایف آئی آر بلوچستان کی بیٹیوں کے خلاف، دراصل بلوچستان کے وسائل کو لوٹنے کے لیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سردار اختر مینگل کی قیادت میں بی این پی واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی کو وفاداری کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حق نہیں اور بی این پی کسی کو بلوچستان کے وسائل لوٹنے کی اجازت نہیں دے گی۔

Share This Article