بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کی گرفتار قیادت کی رہائی اور سردار اختر مینگل کی سربراہی میں جاری دھرنا کی سیاسی پیچیدگی کے تناظر میں بلوچستان کے سیاسی منظرنامے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سابق چیئرمین سینیٹ اور سینئر سیاسی رہنما صادق سنجرانی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی حکومتی وفد نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے لک پاس دھرنا میں اہم مزاکرات کیے۔
مزاکرات کا پہلا دور مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرا دور نمازِ مغرب کے بعد شروع ہونے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق مزاکرات خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئے اور فی الوقت دونوں فریقین میں بامقصد تبادلہ خیال جاری ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے نتائج مثبت ہونے کا غالب گمان ہے اور یہ بلوچستان کے سیاسی بحران میں کسی بڑی پیش رفت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی زیرِ گردش ہے کہ صادق سنجرانی اس ملاقات میں صرف بلوچستان حکومت کے نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ بااختیار حلقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سامنے آئے ہیں۔ اس تاثر نے ان مزاکرات کو مزید اہمیت دی ہے کیونکہ بی این پی کے دیرینہ مطالبات اور تحفظات کا حل ممکنہ طور پر ان ہی بااختیار اداروں کی مداخلت سے ممکن ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ مزاکرات میں بی وائی سی قیادت کی بلا مشروط رہائی اور کل کوئٹہ جانے والے قافلہ کو محفوظ راستہ دینے جیسے اہم نکات زیر بحث آئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مزاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں تو یہ بلوچستان میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔