بلوچستان کے علاقے نصیر آباد سے مسلح افرادنے ایک چرواہے کو قتل کرکے اس کی بھیڑ بکریاں چرا کر لے گئے۔ حب میں ایک طالب علم کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
نصیر آباد سے اطلاعات ہیں تھانہ فلیجی کی حدود میں گاؤں کورار میں پولیس چوکی کے سامنے ایک نوجوان چرواہے کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا اور اس کی بھیڑ بکریاں چراکر لے گئے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے پولیس کے سامنے فائرنگ کرکے چرواہے کو قتل کردیا اور تمام بھیڑ بکریاں چرا کر لے گئے۔
کہا جارہا ہے کہ بھیڑ بکریوں کی تعداد 60 کے قریب رہی ہوگی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ڈکیتی کی واردات ہے ، مسلح افرادنے پہلے مقتول سے ماہانہ بھتہ مانگا تھا اور انکارکرنے پر اسے بے دردی سے قتل کردیا اور فرار ہوگئے ۔
دوسری جانب بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں پاکستانی فورسز نے ایک طالب علم کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت کیا بلوچ ولد محمد اشرف سکنہ مشکے کلر کے نام سے ہوگئی ہے۔جو بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علم ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیا بلوچ کو گذشتہ مہینے 2 مار چ کو فورسز نے حب شہر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی تاحال کوئی خبر نہیں ہے۔
واضع رہے کہ وسیع بلوچستان میں انٹر نیٹ و میڈیا کی عدم رسائی سے کئی خبریں بروقت موصول نہیں ہو پاتی ہیں۔