آج پاکستان و دیگر اسلامی ممالک میں لوگ عید کی خوشیاں و جشن منا رہے ہیں لیکن بلوچستان عید کے روز بھی ماتم کدہ ہے اور بلوچ عوام سڑکوں پر اپنے پیاروں کی ماورائے آئین گرفتاری ،ماورائے عدالت قتل ،جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے۔
گذشتہ دو دہائیوں سے زائد بلوچستان میں ریاستی فورسز کی شروع کردہ جبری گمشدگی اور مارو پھینکو پالیسی سے بلوچ عوام عید منانے اور عید کی خوشیاں جینے سے ہیں۔ہر عید کے دن لاپتہ افراد لواحقین اپنے پیاروں کی یاد میں ان کے لئے نئے کپڑے اور جوتے لیکر کوئٹہ وکراچی کی شاہراہوں پر احتجاجی ریلیاں نکالتی رہی ہیں۔
اب کے عید میں صرف کوئٹہ و کراچی میں احتجاجی ریلی و مظاہرے نہیں ہورہے بلکہ پورے بلوچستان میں لوگ سڑکوں پر عید ماتم منا رہے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے قائد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، سمی دین بلوچ ، بیبو بلوچ ، صبغت اللہ شاہ جی، بیبرگ بلوچ اور دیگر ماورائے آئین گرفتار کارکنان کی رہائی کے لئے عید کے روز پورے بلوچستان میں احتجاج کی کال دیدی تھی ۔
دوسری بی این پی سمیت دیگر سماجی تنظیموں نے بی وائی سی کی کال کی حمایت اور مظاہروں و ریلیوں میں اپنی بھر پور شرکت کو یقینی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
سنگر کو ملنےو الی اطلاعات کے مطابق پنجگور، نوشکی،کوہلو، مستونگ، خضدار، کلات، خاران، واشک،حب ،ملیرکراچی،تربت، بلیدہ، تمپ،چاغی،نوکنڈی، دالبندین،چارسر،ماشکیل اوریک مچ سمیت کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے و ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔
صنعتی شہر حب میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
مظاہرے میں مرد، خواتین اور بچے سڑکوں پر نکل آئے اور بی وائی سی قیادت کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے مند میں لوگوں نے بی وائی سی قیادت کی غیر قانونی حراست کے خلاف جاری مزاحمت میں شامل ہو کر ایک زبردست احتجاجی ریلی نکالی۔
جبکہ دیگر کئی علاقوں کی خبری آنا باقی ہیں۔
ادھر سردار اختر مینگل کی قیادت میں بلوچستان نیشنل پارٹی کی لانگ مارچ دھرنا مستونگ میں لکپاس کے مقام پر عید کے روزبھی جاری ہے ۔
دھرنے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں اور لکپاس کے دوسری جانب کوئٹہ میں حکومت نے لانگ مارچ مظاہرین کوروکنے کےلئے سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد تعینات کردی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جدھر نظر جاتی ہے ادھر تک فورسز کی نقل و حرکت دیکھنے کو ملتی ہے۔