طالبان قیدیوں کی رہائی کا حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے تک ہو جائیگا، افغان صدر

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے تک ہو جائے گا۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اگلے ہفتے امن عمل سے متعلق گفت و شنید کا آغاز ہو جائے گا، جس میں 18 علاقائی اور بین الاقوامی ملک شرکت کریں گے۔

انھوں نے یہ بات گذشتہ رات افغانستان کے قومی ٹیلی ویڑن چینل، آر ٹی اے کی جانب سے منعقدہ محفل مباحثہ میں کہی۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر غنی نے کہا کہ ”طالبان قیدیوں کی رہائی کا حتمی فیصلہ آئندہ دنوں کے دوران ہو جائے گا، جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ 5000 طالبان قیدی کس طرح رہا ہوں گے”۔

صدر غنی نے کہا کہ انھوں نے تمام متعلقہ تنظیموں کو کہا ہے کہ وہ طالبان قیدیوں کی فہرست کو آخری شکل دیں، جن پر افغان حکومت اور طالبان رضامند ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی دراصل قیدیوں کا تبادلہ ہے، اور افغان حکومت کو پتا ہونا چاہیے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کے قیدیوں کو کب اور کہاں رہائی ملے گی، اور یہ یک طرفہ عمل نہیں ہو گا۔

افغان صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پہلا بین الافغان مکالمہ دوحہ میں ہو گا۔ لیکن، انھوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک جن میں ازبکستان، انڈونیشیا، چین، جرمنی، ناروے اور جاپان شامل ہیں، بین الافغان بات چیت کا اجلاس منعقد کرنے پر تیار ہیں۔

ادھر، بدھ کو جاری ہونے والی پینٹاگان کی حالیہ رپورٹ کےحوالے سے وائس آف امریکہ کی ڈیوا سروس نے بتایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، طالبان نے القاعدہ کے ساتھ روابط جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر، امریکی نمائندہ خصوصی خطے کا حالیہ دورہ مکمل کر چکے ہیں جب کہ بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے لیے شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے سے متعلق اقوام متحدہ کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

پینٹاگان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”حالانکہ امن عمل کے سلسلے میں حالیہ پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، لیکن برصغیر ہند کی القاعدہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد تربیت کی فراہمی ہے”۔

فروری میں دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے معاہدے میں کہا گیا تھا کہ طالبان القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط بند کر دیں گے۔

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تجزئے میں بتایا گیا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کی قربت برقرار ہے، اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ان کے مابین باقاعدہ صلاح و مشورہ کیا جاتا ہے۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت، زلمے خلیل زاد بدھ کو پاکستان میں تھے، جس دورے کا مقصد بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔

اقوام متحدہ نے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں تشدد کی جاری کارروائی پر اظہار تشویش کیا ہے، اور افغانستان میں شہری آبادی کے تحفظ پر زور دیا ہے، تاکہ بین الافغان بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔

Share This Article
Leave a Comment