بی ایل ایل ایف گلوبل، سویڈش ہیومن رائٹس ، نورڈک ایسوسی ایشن، اور بلوچ رائٹس ڈیفنڈرز نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں بلوچستان میں ایک پرامن احتجاجی مارچ پر پرتشدد ریاستی کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کر تے ہوئے اسے انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیاہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جبری طور پر لاپتہ بلوچ خواتین کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے سردار اختر مینگل کی قیادت میں ایک پرامن مارچ، گرفتاریوں، تشدد اور بعد میں ریاستی سیکورٹی فورسز سے منسلک ایک ناکام خودکش حملے سے ملا۔ یہ تشویشناک انکشاف خطے میں ریاستی دہشت گردی کی شدت کو واضح کرتا ہے۔
انہوںنے اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے مداخلت کی اپیل کرتےہوئے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہونے تک پاکستان کو چھوٹے اسلحے کی سپلائی روک دی جائے۔ بین الاقوامی میڈیا کو احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ان مظالم کو بے نقاب کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریاستی مظالم کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ میں شکایات کا اندراج کیا جائے۔
ہم پرامن مظاہرین کی فوری رہائی، جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور آزاد عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ریاستی دہشت گردی کے استعمال سے نہ صرف بلوچستان بلکہ عالمی جمہوری استحکام کو خطرہ ہے۔ عالمی برادری کو پاکستان کو جوابدہ بنانے کے لیے اب عمل کرنا چاہیے۔