پاکستان خوف و ڈر کی فضا قائم کرکے بلوچوں کے جمہوری آوازوں کو خاموش کرنا چاہتی ہے، رحیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بی این ایم کے رہنما رحیم بلوچ ایڈوکیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں  کہا ہے کہ حالیہ دنوں بلوچستان میں قابض پاکستانی فوج، خفیہ اداروں اور سرفراز بگٹی کی سربراہی میں قائم کٹھ پتلی انتظامیہ کا جبری گمشدہ بلوچوں کے خاندانوں، خواتین، بچوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف طاقت و تشدد کا بے لگام استعمال، انسانی حقوق کی تنظیم بی وائی سی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، بیبگر بلوچ اور سمی دین بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کا اندراج انتہائی قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابض ریاست کی یہ فسطائیت و سفاکیت نہ صرف بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست پاکستان کے قبضہ گیرانہ استعماری کردار اور فطرت کو بھی طشت از بام کررہی ہے۔ بلوچ خواتین، بچوں، انسانی حقوق کے سرگرم رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف ریاست کے پُرتشدد اقدامات نہ صرف بنیادی انسانی اور جمہوری آزادیوں اور حقوق کی پامالی پر مبنی ہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمرے میں بھی آتی ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ دراصل قابض ریاست بلوچوں کی جمہوری تحریکوں سے ہمیشہ خوفزدہ رہی ہے کیونکہ بلوچ تحریک کے جمہوری محاذ کی سرگرمیاں قابض ریاست کے گھناؤنے کردار اور جرائم سے پردہ اٹھاتی ہیں جبکہ قابض ریاست چاہتی ہے کہ خوف و ڈر کی فضاء پیدا کرکے بلوچوں کے جمہوری آوازوں کو خاموش کرسکے تاکہ اس کی سفاک فوج، خفیہ ادارے اور مسلح جتھے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی کارروائیوں کے ذریعے بلوچوں کی جو نسل کشی کررہی ہیں اان کے ایسے جرائم پر پردہ پڑا رہے۔

رحیم بلوچ نے کہا کہ بلوچ خواتین اور بچوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی پر پنجاب سمیت پورے پاکستان میں عوام اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی اس سچائی اور حقیقت کو ثابت کررہی ہے کہ پاکستان اور مقبوضہ بلوچستان دو الگ وجود (entities ) ہیں، جن کی تاریخ، تشخص، مفادات، ترجیحات و مقاصد اور بقاء کے تقاضے نہ صرف ایک دوسرے سے مختلف بلکہ باہم متصادم ہیں۔ پاکستان کی نوآبادیاتی تسلط سے بلوچستان کی آزادی ہی اس خونین تنازع کا منتقی، فطری، پائیدار اور قابل قبول حل ہے۔

Share This Article