سانحہ سریاب سیا ہ دن ہے،ڈاکٹر ماہ رنگ کو صرف سچ بولنے پر گرفتار کیا گیا،اختر مینگل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری پر ردِعمل دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوںں نے اسلحہ نہیں اٹھایا صرف اپنی بات کہی اور پھر بھی ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔‘

انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ماہ رنگ کو صرف سچ بولنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ایسا سچ جو تکلیف، پیاروں کو کھو دینے کے دکھ اور ناانصافی کے بارے میں ہے لیکن اسے سالوں نظرانداز کیا جاتا رہا۔

’وہ پرامن انداز میں اور دلیری کے ساتھ اپنے لوگوں کی آواز لے کر کھڑی رہیں اور اسی وجہ سے انھیں خاموش کروایا گیا۔‘

اختر مینگل نے سوال کیا کہ ’کیا آپ مسائل کا حل اس طرح نکالنے چاہتے ہیں؟ بولنے والوں کو گرفتار کر کے اور حقوق مانگنے والوں کو سزا دے کر؟ اگر آپ انصاف اس طرح دینا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ جتنے بھی لوگوں کو خاموش کریں گے سچ ہمیشہ سربلند رہے گا۔‘

انہوں نے سریاب سانحہ کو ایک سیاہ دن قرار دیتے ہوئے حکمرانوں کو عوامی نہیں بلکہ سرکاری نمائندہ کہا ہے۔

انہوں نے پرامن احتجاجی مظاہرین پر سفاکانہ شیلنگ، بربریت اور پانچ بلوچ نوجوانوں کی شہادت کی شدید مذمت کی۔ سحری کے وقت دھرنے پر دوبارہ چڑھائی اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر خواتین و نوجوانوں کی گرفتاری پر بھی انہوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔

سردار اختر مینگل نے کہاکہ موجودہ حکمران عوام کے نمائندے نہیں بلکہ سرکار کے نمائندے ہیں، جنہیں نام نہاد انتخابات کے ذریعے بلوچستان پر مسلط کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان میں چار آپریشنز کیے گئے اور پانچواں جاری ہے، جس میں بلوچ روایات کو پامال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کا فائدہ اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو آج وزیراعلیٰ، ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹر بنے ہوئے ہیں، اور ان کی عوام میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔

Share This Article