بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلو چ دیگر ساتھیوں کی جبری گمشدگیوں اور نہتے مظاہرین کے قتل عام کے خلاف سریاب روڈ پر بی وائی سی کے جاری دھرنے پر پھر کریک ڈائون شروع کردی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو زمیں دیکھا جاسکتا ہے کہ فورسزکے ساتھ سادہ کپڑوں میں ملبوس نقاب پوش افراد دھرناگاہ کی جانب فائرنگ وشیلنگ کرکے پیش قدمی کر رہے ہیں۔
ویڈیو میں صاف نظر آرہا ہے کہ فائرنگ و شیلنگ سےمظاہرین خوف وہراس سے منتشر ہورہے ہیں اور نقاب پوش افراد فائرنگ کرکے دکانوں کو نذر آتش کر رہے ہیں۔
بی وائی سی کا کہنا کہ ریاست نے کوئٹہ میں سفاکیت اور بربریت کی انتہا کر دی ہے۔ سریاب دھرنے میں براہِ راست عوام پر فائرنگ کی جا رہی ہے، اور ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکار دکانوں کو جلا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے، جس کے نتیجے میں عام عوام بلا تفریق نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے ہم عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں۔ ہم اس بربریت اور جبر کا مقابلہ پرامن طریقے سے کریں گے۔
دوسری جانب بی وائی سی کے رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ دھرنا ایک دفع پھر سبوتاژ ہوچکا ہے، پولیس کی جانب سے مسلسل فائرنگ و شیلنگ کی جارہی ہے، دھوئے میں کچھ ظاہر نہیں ہورہا کہ کتنے لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عوام منتشر ہوچکی ہے مگر کچھ نقاب پوش افراد سول کپڑوں میں دکانیں جلا رہے ہیں فائرنگ کر رہے ہیں۔
اس سے قبل بی وائی سی رہنما سمی دین بلوچ نے کہاکہ کوئٹہ بائی پاس، کرانی کے مقام پر مظاہرین کے خلاف شدید شیلنگ کے بعد پولیس کی بھاری نفری بلوچستان یونیورسٹی میں دھرنے کے مقام کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔ امکان ہے کہ وہاں بھی کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کل مظاہرین پر گولیاں برسا کر معصوم بچوں اور نوجوانوں کو شہید اور زخمی کیا گیا، پورے کوئٹہ کو خون میں نہلا دیا گیا، سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کرکے جیلوں کو بھر دیا گیا مگر ریاست کا ظلم یہیں نہیں رکا۔ اب مزید تشدد کرکے نہتے مظاہرین پر طاقت آزمائی کی جا رہی ہے۔