حکام کا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جبری گمشدگی کی تصدیق، تاحال لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے حکام نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے لیکن تاحال اس کی کوئی خبر نہیں ہے وہ ابھی تک لاپتہ ہیں۔

سنیچر کو جاری ایک بیان میں کوئٹہ کے کمشنر کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف ’متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی، سول ہسپتال پر حملے اور عوام کو پُر تشدد احتجاج پر اکسانے سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار‘ کیا گیا ہے۔

کوئٹہ کے کمشنر کی جانب سے جاری اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’جمعے کو جعفر ایکسپریس کے ہلاک شدہ دہشت گردوں کے حق میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران پُرتشدد مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور فائرنگ کی۔‘

واضع رہے کہ آج علی الصبح سحری کے وقت سریاب روڈ پر بی وائی سی کے دھرنے پر پولیس و خفیہ اداروں نے دھاوا بول کرموجود خواتین و دیگر مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی دیگر خواتین رہنمائوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیاتھا۔

مذکورہ دھرنے میں گذشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے شہید ہونے والے افراد کی میتیں بھی رکھی ہوئی تھیں ، فورسز نے میتوں کوبھی اپنی تحویل میں لے لیا تھا جن کے حوالے سے بھی کوئی خبر نہیں ہے۔

حکام کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ کی گرفتاری کی تصدیق کرنے کے باوجود ابھی تک اس کے حوالے سے کوئی خبر نہیں ہے کہ وہ کہاں یا کس تھانے میں ہیں۔

آج بلوچستان بھر میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ و دیگر رہنمائوں کی جبری گمشدگیوں اور نہتے مظاہرین پر فائرنگ و قتل عام کے خلاف بی وائی سی کی کال پر پورا بلوچستان شٹر ڈائون و پہیہ جام ہڑتال کی وجہ سے بند رہا۔کوئٹہ میں موبائل فون سروسز سمیت انٹرنیٹ بھی بند رہی۔

Share This Article