بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے قمبرانی خاندان کے آٹھ افراد کو اب تک پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے جبری طور پر لاپتا کر دیا ہے، جن میں اس خاندان کے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ معزز بزرگ بھی شامل ہیں۔ روز بروز ان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، گھر کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے، اور خواتین و بچوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست نہ صرف اس ظلم و بربریت کو جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس خاندان کو یہ بتانے سے بھی قاصر ہے کہ ان کا جرم آخر کیا ہے۔ روزانہ گھروں پر حملے کر کے ان کے بچوں اور بزرگوں کو جبری طور پر لاپتا کیا جا رہا ہے، لیکن نہ تو ان پر کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں آئین و قانون کے تحت کسی پولیس اسٹیشن یا عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے معاملے میں آئین و قانون کی عمل داری تو شروع دن ہی سے معطل رہی ہے، اور ریاست نے کبھی اپنے ہی آئین کے تقدس کا احترام نہیں کیا۔ مگر اب بدترین فسطائیت اور ظلم و جبر کی نئی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں، جہاں بلوچ عوام کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے جو پندرہویں صدی کے غلاموں سے بھی بدتر ہے۔