حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو مقدمات میں 11 برس کی سزا سنا دی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11 برس قید کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت نے لاہور اور گوجرانوالہ میں درج مقدمات میں دہشت گردی کے لیے رقم جمع کرنے اور کالعدم تنظیم کا رکن ہونے پر ملزم کو الگ الگ ساڑھے پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ان پر 15 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی کی دفعہ 11 ایف ٹو اور 11 این کے تحت سزا سنائی۔

حافظ سعید کو دی جانے والی دونوں سزائیں ایک ساتھ چلیں گی یعنی انھیں ساڑھے پانچ برس کا عرصہ ہی جیل میں کاٹنا ہو گا۔

حافظ سعید سمیت ان کی تنظیم کے دیگر رہنماؤں پر غیر قانونی فنڈنگ کے الزام میں دسمبر 2019 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی اور اس موقع پر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے اپنے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ الزام عالمی دباؤ کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔

حافظ محمد سعید سمیت دیگر کے خلاف یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے درج کیا تھا جبکہ انھیں پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے 17 جولائی 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عالمی مذہبی دہشت گرد عملی طور پر پاکستان میں کبھی بھی قید نہیں ہوئے بلکہ عدالتی احکامات باوجود یہ تو انکو جیل میں یا خفیہ طور پر زیر زمین رکھ کر تمام سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ وہ افراد پہلے سے زیادہ موثر انداز میں اپنا نیٹ ورک چلاتے رہے ہیں،

مبصرین کے مطابق حافظ سعید کے خلاف یہ تمام ٹرائل امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہے دراصل مذکورہ دہشت گرد آج بھی پاکستانی ادارے آئی ایس آئی کا اہم کارندہ ہونے کے ساتھ تمام سہولیات سے مستفید ہے،اور یہ کاراوئیاں صرف دھکاوئے کے لیے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment