کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر کرفیو نافذ،200 تابوت پہنچا دیے گئے

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان کے ضلع سبی کے علاقے ڈھاڈر میں جعفرایکسپریس ٹرین پر بلوچ عسکریت پسند بی ایل اے کا کنٹرول گذشتہ 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود برقرار ہے اور سینکڑں یرغمالی اب بھی ان کے تحویل میں ہیں جن کا تعلق سیکورٹی فورسز وخفیہ اداروں سے بتایا جارہا ہے۔

جبکہ سینکڑوں سویلین یرغمالیوں کو بی ایل اے کی جانب سے چھوڑ دیا گیا ہے جن میں عورتیں ، بوڑھے اور بچے شامل ہیں ۔اور عینی شاہدیں نے اس کی تصدیق کی ہے کہ انہیں یہ کہہ رہا کیا گیا ہے کہ وہ سویلین کو نہیں ماریں گے۔

دوسری جانب سیکورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے اس نے آپریشن کے ذریعے 155 یرغمالی بازیاب اور 27 عسکریت پسند ہلاک کئے ہیں لیکن بی ایل اے اس کی تردید کر رہی ہے۔

بی ایل اے نے تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ اب تک 40 کے قریب فوجی اہلکار مار دیئے گئے۔

سرکاری سطح پر جعفر ایکسپریس پر قبضہ کرنے والے بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران اب تک ہلاکتوں کی تعداد کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن سے بدھ کو 200 سے زیادہ تابوت ریلیف ٹرین پر بولان کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں۔

ریلوے کے ایک افسر نے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ آج ایک ریلیف ٹرین کوئٹہ سے بولان کی جانب روانہ کی جا رہی ہے جس میں مختلف سامان موجود ہے۔

ایک اور اہلکار نے بی بی سی کے ملک مدثر سے بات کرتے ہوئے کہا انتظامیہ کی جانب سے پلیٹ فارم پر اب تک 90 خالی تابوت لائے گئے جنھیں اس ٹرین میں روانہ کیا جائے گا جبکہ ٹرین کی روانگی سے قبل اس پر مزید 130 تابوت بھی رکھے جائیں گے جن کے سٹیشن پہنچنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ریلوے حکام کا مزید کہنا تھا کہ یہ تابوت ریلوے کی طرف سے نہیں بلکہ کوئٹہ انتظامیہ کی جانب سے آئے ہیں اور وہ اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کر سکتے۔

اب اطلاعات ہیں کہ کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی کو بھی ریلوے سٹیشن کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور نہ کوئی کسی سرکاری دفتر کا رخ کر سکتا ہے۔جیسے کرفیو نافذ ہو۔

کہا جارہا ہے کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن کے باہر لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں۔ یہاں لوگ اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کبھی ایک گیٹ تو کبھی دوسرے دفتر کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

خاتون نے بی بی سی کوبتایا کہ ان کے دیور یعنی ان کے شوہر کے بھائی بھی اس جعفر ایکسپریس میں سوار تھے اور ابھی ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے اور نہ کوئی ہمیں اس بارے میں کچھ بتا رہا ہے۔

ریلوے سٹیشن کے داخلی دروازے پر انفارمیشن ڈیسک کا چارٹ ضرور آویزاں کیا گیا ہے مگر عوام کا داخلہ مکمل طور پر بند ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایف سی اور ریلوے پولیس کے اہلکار ادھر کا رخ کرتے ہیں اور یہاں پلیٹ فارم سے صحافیوں کو کبھی ایک کونے تو کبھی دوسرے کونے کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

اگرچہ یہاں سے زیادہ ٹرینیں تو نہیں چلتیں مگر عام طور پر پھر بھی اس چھوٹے سے ریلوے سٹیشن پر بہت رش لگا رہتا ہے۔ یہ کوئٹہ شہر کے لیے تفریح کا بھی مقام ہے۔ مگر اب عوام کو یہاں سے دور رکھا جا رہا ہے۔

ریلوے سٹیشن پر ایک ٹرین کھڑی ہے اور مجھے ایک سینیئر ریلوے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم نے یہاں سے بڑی تعداد میں تابوت لے کر جانے ہیں۔

کچھ خیراتی اداروں کی طرف سے بھی تابوت یہاں لائے گئے ہیں۔ یہاں پر کھڑی ایک مسافر ٹرین کی پانچ بوگیوں میں یہ تابوت رکھے جا رہے ہیں۔ ابھی تک یہاں 60 سے 70 تابوت لائے گئے ہیں۔

اگرچہ یہاں سے زیادہ ٹرینیں تو نہیں چلتیں مگر عام طور پر پھر بھی اس چھوٹے سے ریلوے سٹیشن پر بہت رش لگا رہتا ہے۔ یہ کوئٹہ شہر کے لیے تفریح کا بھی مقام ہے۔ مگر اب عوام کو یہاں سے دور رکھا جا رہا ہے۔

اس ریلوے سٹیشن کے قریب ہی ریلوے کالونی ہے۔ میں یہاں اس ریلوے پولیس اہلکار کے گھر گیا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں 20 سے 25 لوگ بیٹھے ہیں اور وہ سب کو اس حادثے کی تفصیلات بتا رہے ہیں۔

Share This Article