امریکہ سے ’کسی بھی قسم کی جنگ‘ کرنے کے لیے تیار ہیں، چین

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی ٹیکس کو بڑھائے جانے کے بعد چین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے چین کی تمام مصنوعات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے بعد دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتیں اس وقت تجاری جنگ کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

ٹرمپ کے اقدام کے بعد چین نے بھی جلد ردعمل دیتے ہوئے امریکہ کی فارم کی مصنوعات پر 10 سے 15 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔

چینی سفارتخانے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’اگر جنگ وہ ہے جو امریکہ چاہتا ہے، تجارتی جنگ یا کسی اور قسم کی جنگ، ہم آخر تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ چینی حکومت نے بھی گذشتہ روز یہی بیان دیا تھا اور آج سفارتخانے نے اسی موقف کو ایکس پر پوسٹ کیا ہے۔

ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے چین کی جانب سے اب تک سامنے آنے والا یہ سب سے سخت بیان ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سالانہ نیشنل پیپلز کانگریس کے لیے رہنما بیجنگ میں جمع ہوئے ہیں۔

بدھ کے روز چین کے وزیراعظم لی ژیانگ نے اعلان کیا کہ چین اس سال بھی اپنے دفاعی اخراجات میں سات اعشارعہ دو فیصد اضافہ کرے گا۔

دفاعی اخراجات میں حالیہ اضافہ متوقع تھا اور گزشتہ سال کے اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہے تاہم چینی صدر نے اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ ’دنیا میں ایسے تغیرات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں جن کا ایک صدی میں کہیں ذکر نہ تھا۔‘

بیجنگ کے رہنما یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ملک کی معیشت کے حوالے سے پُراعتماد ہیں، چاہے تجارتی جنگ کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔

چین خود کو ایک مستحکم اور پُرامن ملک کے طور پر پیش کرنے کا خواہاں ہے جبکہ وہ امریکہ پر مشرق وسطیٰ اور یوکرین میں جنگوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے۔

چین یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا اور میکسیکو جیسے امریکی اتحادیوں پر عائد محصولات سے فائدہ اٹھائے لیکن وہ عالمی سطح پر اپنے نئے شراکت داروں کو خوفزدہ کرنے سے بھی گریزاں ہے۔

بدھ کے روز اپنی تقریر میں چینی وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ چین اپنی معیشت کو مزید پھیلائے گا اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کرے گا۔

یاد رہے کہ چین ماضی میں بھی جنگ کے لیے تیاری کی بات کرتا رہا ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں صدر شی جن پنگ نے اپنی فوج کو جنگ کی تیاری بڑھانے کا حکم دیا تھا جب انھوں نے تائیوان کے ارد گرد فوجی مشقیں کی تھیں۔

تاہم یہ بھی یاد رہے کہ فوجی تیاری اور جنگ کے لیے مکمل آمادگی میں فرق ہوتا ہے۔

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی پوسٹ میں وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں امریکہ پر چینی مصنوعات پر محصولات بڑھانے کے لیے فینٹینل (ایک ڈرگ) کے مسئلے کو جواز بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

بیجنگ کے حکام کو امید تھی کہ ٹرمپ کے تحت امریکہ چین تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں خاص طور پر جب صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں مدعو کیا تھا۔

صدرشی جن پنگ پہلے ہی کمزور صارفین کے اخراجات، پراپرٹی بحران اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔

چین نے اپنی کمزور معیشت میں بہتری کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کا منصوبہ نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جو کہ محض رسمی منظوری دینے والا ایک ادارہ ہے اور اس کے فیصلے پہلے ہی بند دروازوں کے پیچھے کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ چین دنیا کا دوسرا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھتا ہے جو 245 ارب ڈالر ہے، لیکن یہ امریکہ کے بجٹ سے بہت کم ہے۔

بیجنگ اپنی جی ڈی پی کا 1.6فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے جو امریکہ اور روس کے مقابلے میں کم ہے۔

Share This Article