امریکہ میں امیر غیر ملکیوں کے لیے ’گولڈ کارڈ‘ متعارف کرانے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں غیر ملکیوں کی سرمایہ کاری اور شہریت کے لیے ’گولڈ کارڈ‘ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس کی مالیت پانچ ملین ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

اوول آفس میں منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایسے غیر ملکی جو امریکہ میں کاروبار کرنا اور یہاں کی شہریت کا حصول چاہتے ہیں وہ 50 لاکھ ڈالر کا "گولڈ کارڈ” خرید سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے "گولڈ کارڈ” کو گرین گارڈ کی طرح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ ایسے افراد آئیں گے جو یہاں کے شہریوں کو ملازمت دیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے قومی خسارہ بھی کم ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے لوگ امریکہ آ کر یہاں کاروبار کرنا چاہتے ہیں اور کمپنیاں بنا کر روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ گولڈ کارڈ ایسے افراد کے لیے اعلیٰ ترین امریکی شہریت کی مانند ہو گا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق گولڈ کارڈ کی فروخت آئندہ دو ہفتوں میں شروع ہوجائے گی جب کہ اس ضمن میں قانونی تقاضے پورے کیے جا چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ گولڈ کارڈ حاصل کرنے کے خواہش مند امیدواروں کی محتاط طریقے سے جانچ پڑتال ہو گی۔

انہوں نے گولڈ کارڈ کی فروخت کا منصوبہ ایسے موقعے پر پیش کیا ہے جب امریکہ میں مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن کی بے دخلی کا عمل جاری ہے۔

جب صدر ٹرمپ سے سوال گیا کہ آیا روس کی اشرافیہ بھی اس کارڈ کو حاصل کرنے کی اہل ہو گی؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر وہ حاصل کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ روسی امرا اب اتنے امیر نہیں جتنا وہ پہلے تھے۔ ان ے مطابق ’’لیکن میرے خیال میں وہ 20 لاکھ ڈالر برداشت کر سکتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ تین برس قبل یوکرین جنگ شروع ہونے کے مغربی پابندیوں کی وجہ سے روس میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی امیر ترین اشرافیہ شدید متاثر ہوئی ہے۔ اشرافیہ کے ان امیر ترین افراد کو اولیگارکس کہا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی صحافیوں سے گفتگو کے دوران اوول آفس میں موجود امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے بھی کہا کہ گولڈ کارڈ سے حاصل ہونے والی رقم سے امریکہ کے خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ نئے کارڈ کو ان کے نام سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق ” کسی نے کہا کہ کیا ہم اس کارڈ کو ٹرمپ گولڈ کارڈ کہہ سکتے ہیں؟”

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article