بی ایل ایف نے جھاؤ، خاران،گوادر اور تربت میں فورسز پر متعددحملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے دو مختلف پریس ریلیز میں جھاؤ، خاران،گوادر اور تربت میں پاکستانی فورسز پر متعددحملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 19 فروری کی شام ساڈھے سات بجے گوادر میں مونڈی کے مقام پر قائم قابض فورسز کی چیک پوسٹ کے اہلکاروں کو اس وقت خودکار و بھاری ہتھیاروں سے حملے میں نشانہ بنایا جب وہ چیک پوسٹ کے سامنے چیکنگ کے لیے کھڑے تھے، جس کے نتیجے میں فورسز کے 2 اہلکار زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور حملے میں سرمچاروں نے انیس فروری شام ساڑھے سات بجے تربت کے علاقے آبسر میں مولد ریک کے مقام قائم قابض پاکستانی فوجی چوکی پر متعدد گرنیڈ لانچر کے گولے داغے جو نشانے پر لگے جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 2 اہلکار زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے گزشتہ روز 12 بجے جھاؤ کے علاقے نونڈڑہ ڈل شہر میں واقع پاکستانی فورسز پر حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کیئے۔

اسی طرح بی ایل ایف کے اسنائپر ٹیکٹکل ٹیم نے 20 فروری کی دن بارہ بجے قابض پاکستانی فورسز کے کیمپ کے باہر اہلکاروں پر حملہ کرکے ایک فوجی اہلکار کو ہلاک کیا اور بعد میں جدید ہتھیاروں سے فوجی کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ ایک اور حملے میں سرمچاروں نے آج گیارہ بجے کے قریب خاران بازار کے مرکزی چوک پر ریاستی خفیہ اداروں کے اہم کارندے رسول بخش ببار ولد عبداللہ کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے انٹیلی جنس ونگ کے ساتھی گزشتہ کئی ماہ سے مذکورہ کارندے کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے، جو خاران بازار میں بھیس بدل کر ٹوپیاں فروخت کر رہا تھا۔

میجر گہرام بلوچ نے آخر میں کہا کہ بی ایل ایف قابض پاکستانی فوج پر تمام حملوں، اور ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکار کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک قابض فورسز کو نشانہ بناتے رہیگی۔

Share This Article