بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اوتھل میں بلوچ طلبا کے بک اسٹال کو بزور فورسز ختم کرنے کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اوتھل یونیورسٹی میں بلوچ طلباء کے بک اسٹال کو انتظامیہ اور پولیس نے زبردستی ختم کروا دیا، جہاں پولیس کہہ رہی ہے کہ انہیں اوپر سے آرڈر ہے ، اور دوسری جانب ریاست بلوچستان میں نام نہاد کتب میلے اور فیسٹول کا انعقاد کر کے علم دوست ہونے کا ڈھونگ رچا رہی ہے، جن کا مقصد صرف ریاستی بیانیے کو فروغ دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کتاب کاروان کے تحت بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کےُ طلباء نے گزشتہ ایک مہینے میں پورے بلوچستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں 100 سے زائد بُک اسٹال لگائے، اس کتب بینی کے مہم کے دوران گوادر، نصیر آباد ، حب چوکی ،راجن پور سمیت مختلف جگہوں پر بلوچ طلباء کو گرفتار کیا گیا ان پر جھوٹے ایف آئی آر کاٹے گئے اور ان کتابوں کو تحویل میں لیا گیا جو لاہور اور کراچی میں سر عام فروخت کئے جاتے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ریاست میں بلوچ قوم کا باشعور ہونا اسکا سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔
واضع رہے کہ گذشتہ دنوں گوادر میں سالانہ کتب میلہ بلا کسی روک ٹھوک کے چار روز جاری رہا جبکہ اس سے قبل گوادر میں بلوچ طلبا کے ایک چھوٹے سے کتب اسٹال کو فورسز کے ذریعے ہٹایا گیا اور طلبا کو ایف آئی آرکیا گیا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ ریاست مخالف کتابیں بیچ رہے تھے جبکہ گوادر کتب میلے میں سب وہی کتابیں رکھی گئیں لیکن اس پرکسی قسم کی کوئی ریاستی جبر نہیں دیکھا گیا۔