ایران کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کرنا چاہتا، مستند جوہری امن معاہدے کو ترجیح دوں گا، ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ’ایران کو ٹکڑے ٹکڑے‘ نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ تہران کے ساتھ ’مستند جوہری امن معاہدہ‘ کرنے کو ترجیح دیں گے۔

بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹُرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ ایران ایک عظیم اور کامیاب ملک بنے لیکن ایک ایسا ملک جس کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ اطلاعات کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہیں۔‘

’میں ایک ایسے مستند جوہری امن معاہدے کو ترجیح دوں گا جس کے تحت ایران آگے بڑھ سکے اور خوشحال ہو سکے۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ’ہم اس پر فوراً کام شروع کریں گے، جب یہ مکمل ہو جائے گا اور اس پر دستخط ہوجائیں گے تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑا جشن ہو گا۔‘

یہ معاہدہ پی فائیو پلس ون (اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ جرمنی) اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ تھا جو کہ جنوری 2016 میں طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔

ایران نے اپنی یورینیم افزودگی اور ذخیرہ اندوزی پر پابندیاں قبول کرنے، متعدد جوہری مقامات پر تنصیبات کو بند کرنے یا ان میں ترمیم کرنے اور بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو تنصیبات کے دوروں کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا۔

اس کے بدلے میں، ایران پر سے کئی بین الاقوامی مالیاتی پابندیاں ہٹا دی گئیں تھیں۔ پی فائیو پلس ون کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دے گا۔

ایران کو امید ہے کہ پابندیوں کے خاتمے سے اس کی مشکلات کی شکار معیشت کو بڑے پیمانے پر فروغ ملے گا۔ معاہدہ ختم کیوں ہوا تھا؟ اس معاہدے پر براک اوباما کے دورِ صدارت میں دستخط کیے گئے تھے، لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس پہنچنے سے بہت پہلے واضح کر دیا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ‘بدترین معاہدہ‘ ہے۔

انھوں نے بار بار اسے ‘خوفناک‘ اور ‘مضحکہ خیز‘ قرار دیا تھا اور طنز کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں بھی شامل ہونی چاہیے تھیں اور یہ کہ معاہدے کی شرائط زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہیں گی۔

صدر ٹرمپ نے مئی 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دی تھیں۔

اس کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی اس مقررہ حد سے زیادہ کرنا شروع کی جس کی اسے معاہدے میں اجازت تھی اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ساتھ اپنا تعاون کم کر دیا تھا۔

Share This Article