کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے اعلان کیا تھا کہ کینیڈا 155 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد محصولات عائد کر رہا ہے۔
جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ کینیڈا ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین درآمدات پر عائد کیے جانے والے محصولات کے جواب میں اپنے محصولات متعارف کرائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت 155 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد محصولات عائد کرے گی۔
ٹروڈو کا کہنا ہے کہ 30 ارب ڈالر کی مصنوعات پر منگل سے نافذ العمل ہوں گے جبکہ 21 دن میں مزید 125 ارب ڈالر کا اطلاق ہوگا تاکہ کینیڈین فرموں کو ایڈجسٹ ہونے کا وقت مل سکے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ کینیڈین حوالہ دے رہے ہیں یا امریکی ڈالر کا ۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل ‘دور رس’ ہوگا اور اس میں امریکی بیئر، شراب، بوربون، پھلوں اور پھلوں کے جوس بشمول نارنجی کا جوس، سبزیاں، پرفیوم، کپڑے اور جوتے شامل ہوں گے۔ اس میں گھریلو سامان اور فرنیچر اور لکڑی اور پلاسٹک جیسے سامان بھی شامل ہوں گے۔
جسٹس ٹروڈو کا کہنا ہے کہ انھوں نے 20 جنوری کو ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد ان سے بات کرنے کی کوشش کت تاہم ابھی بات نہیں ہوئی ۔
ٹروڈو نے دسمبر میں فلوریڈا کے اپنے ریزورٹ مار لاگو میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی جب انھوں نے محصولات کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
جسٹن ٹروڈو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کئی بار متنازع تعلقات رہے ہیں لیکن ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران دونوں نے مل کر کام کیا تھا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ان کے خیال میں امریکی محصولات واقعی امریکہ میں فینٹانیل کے بہاؤ کو کم کرنے کی خواہش کی وجہ سے ہیں، جیسا کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے، ٹروڈو نے کہا کہ امریکہ اور کینیڈا کی سرحد ‘دنیا کی سب سے مضبوط اور محفوظ سرحدوں میں سے ایک ہے۔’
انھوں نے کہا کہ امریکہ جانے والے فینٹانل کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ کینیڈا سے آتا ہے۔جبکہ امریکہ جانے والے غیر قانونی تارکین وطن میں سے ایک فیصد سے بھی کم کینیڈا سے آتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کینیڈا کے خلاف یہ تجارتی کارروائی زندگیاں بچانے کے لیے مل کر کام کرنے کا بہترین طریقہ نہیں ہے۔’
ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ‘آئندہ چند ہفتے کینیڈین اور امریکیوں کے لیے مشکل ہوں گے۔ ‘
وہ کہتے ہیں کہ امریکیوں کی اس تجارتی کارروائی اور ہمارے ردعمل کے حقیقی نتائج ہماری سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں اور کارکنوں پر مرتب ہوں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہم یہ نہیں چاہتے تھے، لیکن ہم کینیڈا کے لوگوں کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گہ اور نہ ہی کینیڈا اور امریکہ کے درمیان کامیاب شراکت داری سے پیچھے ہٹیں گے۔
واضع رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد اور چین سے درآمدات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لاگو کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ’آج کا ٹیرف کا اعلان چین، میکسیکو اور کینیڈا کو امریکہ میں زہریلی ادویات کے سیلاب کو روکنے کے اپنے وعدوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ضروری ہے۔‘
اس حکم نامے میں کینیڈا سے توانائی کے وسائل کے لیے استثنیٰ دیا گیا ہے، جس میں 10 فیصد ٹیرف کم ہوگا۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان محصولات کو ‘غیر قانونی غیر ملکیوں اور مہلک منشیات کے بڑے خطرے کی وجہ سے نافذ کیا ہے، جس میں فینٹانل بھی شامل ہے’۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں امریکیوں کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے اور بطور صدر یہ میرا فرض ہے کہ میں سب کی حفاظت کو یقینی بناؤں۔ میں نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں اور منشیات کے سیلاب کو ہماری سرحدوں پر پھیلنے سے روکا جائے گا اور امریکیوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔‘