بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچستان کے علاقے خضدار سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار 15 سالہ انس کی بازیابی کیلئے جاری دھرنے میں عوام سے شرکت کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15 سالہ انس احمد کو خضدار سے اغوا کر لیا گیا جسے سکیورٹی فورسز نے مارا پیٹا اور لے گئے۔ میں خضدار کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان کی بحفاظت رہائی کے لیے دھرنے میں شامل ہوں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف یہ جدوجہد صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ بلوچ قومی بقا کی اجتماعی جدوجہد ہے۔ ہمیں اپنی انسانیت کو استعماریوں سے بحال کرنا چاہیے جنہوں نے تشدد اور جبر کے ذریعے اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ان کا ظلم کسی کو نہیں بخشتا، یہاں تک کہ ہمارے بچوں کو بھی نہیں۔
واضع رہے کہ گذشتہ روز انس ولد احمد سکنہ گذگی کوخضدار سے فورسز نے حراست میں لینے کے بعدلاپتہ کیا تھا۔

واقعے کے خلاف لواحقین اور اہلِ علاقہ نے گذگی کے قریب کوئٹہ، کراچی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے کر شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی خضدار کے مطابق، کم عمر نوجوان کو اغوا کرنے والے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکار تھے اور وہ مسلح تھے۔ نوجوان کو زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے خضدار کے مکینوں سے درخواست کی ہے کہ وہ انس احمد کے خاندان کے احتجاجی مظاہرے میں شریک ہو کر ان کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔
لواحقین نے اعلان کیا ہے کہ اگر انس کو فوری طور پر منظرِ عام پر لا کر بازیاب نہیں کیا جاتا تو ان کا احتجاجی دھرنا مزید شدید ہو گا۔