جنگ بندی معاہدے کے دوران رفح کراسنگ پر اسرائیل کا کنٹرول رہے گا، یاہو

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یا ہو کے دفتر نے بدھ کو کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ پر اسرائیل کا کنٹرول رہے گا۔

دفتر کے ایک بیان میں ان خبروں کی تردید کی گئی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی، جو مغربی کنارے کے ایک حصے پر حکومت کرتی ہے، رفح کراسنگ کو کنٹرول کرے گی۔

یورپی یونین کے مانیٹر کراسنگ کی نگرانی کریں گے۔ اس وقت اسرائیلی فوجی علاقے کو گھیرے ہوئے ہیں اور کراسنگ کے ذریعے لوگوں اور سامان کے گزرنے کی منظوری دینے کا انچارج اسرائیل ہے۔

اسرائیل نے مئی 2024 سے رفح کراسنگ کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ رفح کراسنگ دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔

البتہ اسرائیلی فوج نے اپنے اس دعوے کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے تھے۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں چھ ہفتوں کے دوران حماس 33 یرغمالوں کو رہا کرے گی ۔

یرغمالوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں کو آزاد کر دیا جائے گا۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران ہی اسرائیلی فوج کے مرد اہلکاروں سمیت بقیہ یرغمالوں کی بازیابی پر بھی مذاکرات ہوں گے۔

حماس کا کہنا ہے کہ بقیہ یرغمالی اس وقت تک نہیں چھوڑیں جائیں گے جب تک جنگ کا مکمل خاتمہ اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہیں ہوجاتا۔

اسرائیل کی وزارتِ انصاف نے 700 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں رہا کیا جائے گا۔

رہائی پانے والوں میں تمام نوجوان اور خواتین ہیں۔ وزارتِ انصاف کے مطابق قیدیوں کو اتوار کی شام چار بجے سے پہلے نہیں چھوڑا جائے گا۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوجی بفر ز ون کی طرف لوٹ جائیں گے جو غزہ کے اندر اسرائیلی سرحد کے قریب ہے۔ جس کے بعد نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہو گی۔

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کے روز مزید یرغمالوں کو رہا کرے گی۔

حماس کے ایک اہلکار نے منگل کے روز ایجنسی فرانس پریس کو بتایا کہ یرغمالوں کے گروپ میں چار اسرائیلی خواتین ہوں گی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس نے پیر کو جاری بیان میں کہا ہے کہ معاہدے کی ڈیڈ لائن کے مطابق 25 جنوری کو چار یرغمالوں کو رہا کیا جائے گا۔

Share This Article