بھارت میں آر ایس ایس کی تاریخ پر نگاہ رکھنے والے صحافی اور مصنف دھریندر کمار جھا کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک سو سال کے دوران ہندوتوا کی علمبردار اس تنظیم کی بنیادی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
ہندوتوا، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور قوم پرست ہندو تنظیموں پر متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف، بھارتی صحافی دھریندر کمار جھا کا کہنا ہے، اپنے قیام کے ایک سو سال کے دوران آر ایس ایس کی بنیادی فکر اور نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس کی شاکھاؤں (تربیتی کیمپوں) میں تربیت حاصل کرنے والا ہر شخص، ایک ہی طرح سے سوچتا ہے، خواہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہوں یا مہاتما گاندھی کا قاتل ناتھو رام گوڈسے۔‘‘
آر ایس ایس کا قیام 27 ستمبر 1925 میں عمل میں آیا تھا۔ جھا کا کہنا ہے کہ گو کہ آج ملک پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام کی جماعت کی حکومت ہے اور آر ایس ایس یہ اعلان کرے یا نہ کرے تاہم حقیقت یہ ہے کہ بھارت پر وہی حکومت کررہی ہے۔
دھریندر جھا نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، پچھلے دس سالوں سے جب سے آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کی حکومت بھارت میں قائم ہوئی ہے وہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے، اپنے دوسرے سرسنگھ چالک(سربراہ) ایم ایس گولوالکر کے نظریے کو عملی شکل دینے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔‘‘
نئی کتاب گولوالکر: دا متھ بیہائنڈ دی مین، دی مین بیہائنڈ دا مشین‘‘ کے مصنف دھریندر کمار جھا کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ ہندو راشٹر کو کس طرح بیان کریں گے؟ اگر ہندو اکثریتی ملک کو ہندو راشٹر کہا جاتا ہے تو یہ تو کب کا بن بھی چکا ہے۔
جھا کا کہنا تھا کہ پچھلے دس سالوں میں اس بیانیہ کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمان بھارت کے اصل شہری نہیں بلکہ دیگر ہیں۔ ان کے بقول گائے کا تحفظ اور لو جہاد کے نام پر ہونے والے پرتشدد واقعات اسی کا حصہ ہیں۔ متنازعہ شہری ترمیمی قانون (سی اے اے) بھی اسی کا حصہ ہے، جو بالکل واضح طور پر مسلمانوں کو غیر مسلموں سے الگ کرتا ہے۔
جھا کہتے ہیں کہ آج ملک میں کسی بھی مسلمان سے بات کر کے دیکھ لیجئے وہ بتائے گا کہ 2014ء کے بعد اسٹیٹ کا کیریکٹر بدل گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، آپ ہندو راشٹر کے بارے میں ڈیبیٹ کرسکتے ہیں لیکن مسلمان اس کو جھیل رہے ہیں، وہ ہندو راشٹر کے عتاب کا سامنا کررہے ہیں۔‘‘
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیانات کے حوالے سے سوالوں کے جواب میں جھا کا کہنا تھا کہ ہندوتوا کی اس تنظیم کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ کہتی کچھ اور کرتی کچھ ہے۔ موہن بھاگوت کے بعض حالیہ بیانات سے یہ خوش گمانی پیدا ہو گئی کہ بھارت کے مسلمانوں کے متعلق آر ایس ایس کے خیالات میں تبدیلی آرہی ہے، لیکن یہ ایک بار پھر غلط ثابت ہوا۔
بھاگوت نے کہا تھا، ہندوؤں اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہے اور مسلمانوں کے بغیر بھارت کا تصور نہیں کیا جا سکتا، یا پھر یہ کہ ہر مندر کے نیچے مسجد کی تلاش بند ہونی چاہیے۔‘‘ لیکن گزشتہ دنوں اندور میں ایک تقریب میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ نے کہا تھا کہ بھارت کو اصل آزادی 1947 میں نہیں بلکہ اس دن ملی جس دن اجودھیا میں رام مندر کا افتتاح ہوا تھا۔
بھاگوت کے اس بیان پر کانگریس سمیت تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دھریندر جھا کا کہنا تھا کہ کچھ کہنا، کہہ کر مکر جانا اور پھر ضرورت پڑنے پر پلٹ کر اسی کو دہرانا آر ایس ایس کی تاریخ رہی ہے، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آر ایس ایس نے ملک کی آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا بلکہ وقتاً فوقتاً اس تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تھی۔‘‘
ملک مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے آر ایس ایس پر تین مرتبہ پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔ پہلی مرتبہ یہ پابندی مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد 1948 میں اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے لگائی تھی، جنہیں ہندوتوا کے علمبردار آج اپنا لیڈر ماننے لگے ہیں۔ اٹھارہ ماہ بعد یہ پابندی اس وقت ہٹائی گئی جب اس وقت کے اس کے سربراہ گولوالکر نے حکومت کی شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ خود کو سیاسی سرگرمیوں سے مکمل طور پر دور رہیں گے۔
وہ آج بھی یہی دعویٰ کرتی ہے کہ سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن چند ماہ قبل ہریانہ اور مہاراشٹر کےاسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کی پوری کریڈٹ خود لینے کی کوشش کرتی دکھائی دی تھی۔
گولوالکر کی سوانح حیات لکھنے والے دھریندر جھا کہتے ہیں، ہم ہی نہیں بلکہ جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی بھی کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ آر ایس ایس کے رہنماؤں کے قول و فعل میں تضاد ہے۔‘‘