یوروپی یونین نے لیبیا میں ترکی کی مسلسل بڑھتی فوجی مداخلت پر ایک بار پھر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ترکی طاقت کی زبان استعمال کر رہا ہے اور ہزاروں جنگجو لیبیا بھیج رہا ہے۔
یوروپی یونین کی خارجہ اور سلامتی کی پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے مطالبہ کیا کہ وہ لیبیا کی جماعتوں کے مابین جنگ بندی اور 5 + 5 مذاکرات کی بحالی میں رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو اس بار لیبیا میں روس اور ترکی کے مابین آستانہ کے ایک نئے معاہدے کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ لیبیا کے معاملے میں روس اور ترکی دونوں کے مفادات مشترکہ ہیں۔

یورپی یونین کے ترجمان پیٹر اسٹنانو نے انٹرایکٹو پریس کانفرنس میں العربیہ کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم لیبیا کے بحران میں موثر علاقائی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لیبیا میں جاری کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیبیا میں مزید کشیدگی کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیبیا میں بیرونی مداخلت تنازع کو مزید بڑھاوا دینے کا موجب بن رہی ہے۔