شام کے شمالی علاقے میں کردوں کی قیادت میں لڑنے والی افواج اور ترکی کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے درمیان شدت اختیار کر جانے والی جھڑپوں میں گزشتہ دو دنوں میں دونوں طرف سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔
شامی تنازعے پر نگاہ رکھنے والے مبصر گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام میں کرد فورسز اور ترکی کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ان جھڑپوں میں مارے جانے والوں میں سے 85 جنگجوؤں کا تعلق ترکی کے حمایت یافتہ گروپوں سے تھا، جب کہ 16 جنگجو کردوں کی قیادت والی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز سے تعلق رکھتے تھے۔
شمالی شام میں منبج کے نواحی علاقے میں کردوں کے خلاف ترک فورسز کے فضائی اور زمینی حملوں میں شدت کی وجہ سے کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ترکی اس لڑائی میں مسلح ڈرونز کا استعمال بھی کر رہا ہے۔ ترکی کی کوشش ہے کہ اس کی حمایت یافتہ فورسز اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل تشریم ڈیم کا کنٹرول سنبھال لیں۔
بتایا گیا ہے کہ اس ڈیم کے آس پاس کے علاقے میں ترک فوج زبردست گولہ باری کر رہی ہے۔
خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یہ ڈیم پانی اور بجلی جیسے وسائل پر کنٹرول کے لیے اہمیت رکھتا ہے، جب کہ اس ڈیم کی مرکزی عمارت کو اس لڑائی کی وجہ سے جزوی طور پر نقصان بھی پہنچا ہے۔
شمالی شام کے وسیع تر علاقے پر امریکی حمایت یافتہ اور کرد قیادت میں منظم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کا کنٹرول ہے۔ امریکہ سن 2019 سے ان جنگجوؤں کو دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ‘‘ کے عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے لیے اہم قرار دیتا آیا ہے۔
ترکی تاہم اس گروپ کو کردستان ورکرز پارٹی کی شاخ قرار دیتا ہے۔ کردستان ورکرز پارٹی جنوبی مشرقی کرد اکثریتی علاقوں کی ترکی سے علیحدگی کے لیے مسلح جدوجہد کرتی آئی ہے۔