روس کا کہنا ہے کہ وہ شامی حزبِ اختلاف کے گروہوں کے ساتھ روابط بحال رکھے ہوئے ہے اور ان کی جانب سے روس کے فضائی اڈوں کی سکیورٹی کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔ تاہم صورتحال اتنی بھی آسان نہیں ہے۔
اس وقت شام میں کُل 7500 روسی فوجی تعینات ہیں جن میں سے اکثر اہم روسی ملٹری تنصیبات پر موجود ہیں جن میں طرطوس اور لاذقیہ شامل ہیں۔
تاہم کئی درجن روسی فوجی جن میں سے اکثر ایلیٹ سپیشل فورسز کے آپریٹرز ہیں شام میں مختلف جگہوں پر ہیں۔ ان میں سے کچھ یونٹس باغیوں کی پیش قدمی کے دوران روسی اڈوں کے قریب آنے میں کامیاب ہو گئی تھیں تاہم درجنوں اب بھی مرکزی گروپ سے الگ ہو گئے تھے۔
ان معلومات کی تصدیق دو ریٹائرڈ روسی افسران نے کی ہے جو شام میں فوجیوں کے براہ راست رابطے میں ہوتے ہیں۔ ان دونوں نے ہی اس بارے میں اپنے بلاگز میں لکھا ہے۔
تاہم فجوی اڈوں کا مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے۔ بی بی سی روسی کی جانب سے جن سیٹیلائٹ امیجز کا جائزہ لیا گیا ہے ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تارتوس میں بحری اڈے سے اکثر روسی بحری جہاز تین دسمبر تک جا چکے تھے۔
دوسری جانب لاذقیہ میں جنگی طیارے ایئرفیلڈ میں اب بھی موجود ہیں۔ اس حوالے سے غیر مصدقہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ کل سے یہاں سے طیاروں اور فوجیوں کا انخلا شروع ہو گا۔
روسی حکام نے تاحال ان رپورٹس کے بارے میں بات نہیں کی ہے۔