ایرانی میڈیا کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
عرب نیوز کے ادارے العربیہ کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ایرانی سفارتخانے کی عمارت کے بیرونی حصے کو پہنچنے والے نقصان کو دکھایا گیا ہے۔ اس عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور کمروں کی حالت بھی ابتر ہوئی ہے۔ ان کمروں کے فرش پر پتھر اور کاغذ بکھرے پڑے ہیں۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس عمارت پر لٹکی ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کی تصاویر کو بھی پھاڑی گئی ہیں۔ یہ دونوں رہنما مارے گئے ہیں اور انھیں ایران میں ہیروز کا درجہ حاصل ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی تصویر میں بھی ان دونوں رہنماؤں کی تصاویر کو پھٹا ہوا دکھایا گیا ہے۔
اسی طرح مشق میں مسلح گروپ نے اٹلی کے سفارتخانے کا گھیراؤ کر لیا ہے۔
اب اٹلی کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مسلح گروپ ان کے سفیر کے گھر داخل ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے انسا کے مطابق انتونیو تیجانی نے صحافیوں کو بتایا کہ اتوار کی صبح مسلح گروپ اٹلی کے سفیر کے گھر کے صحن میں داخل ہوا۔
ان کے مطابق ’یہ گروپ اپنے ساتھ تین کاریں لے کر چلا گیا۔ انھوں نے نہ تو سفیر کو اور نہ ہی ملٹری پولیس کو کچھ کہا۔‘
سفارت کانون پر حملو پیش نظر عراق نے بھی دمشق میں اپنا سفارتخانہ خالی کرا دیا ہے۔
ادھر ایرانی تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے شام کی حالیہ پیش رفت کے حوالے سے کہا کہ شام کے مستقبل کے بارے میں فیصلے صرف شامی عوام کا حق ہیں، بغیر کسی خارجی مداخلت کے۔
وزارت خارجہ نے زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے فوری طور پر فوجی تنازعات کا خاتمہ، دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام، اور شامی معاشرے کے تمام شعبوں کی شرکت سے قومی مذاکرات کا آغاز ضروری ہے۔ اس کا مقصد ایک جامع حکومت کی تشکیل ہے جو تمام شامی عوام کی نمائندگی کرے۔
ایران نے اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 کے تحت شام میں سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رہے گا۔
ایران نے زور دیا کہ موجودہ نازک صورتحال میں شامی شہریوں، غیر ملکی شہریوں، مذہبی مقامات، اور سفارتی و قونصلر عمارات کی حفاظت یقینی بنانا بے حد ضروری ہے، جیسا کہ بین الاقوامی قوانین کا تقاضا ہے۔
ایران اور شام کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے، وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی کہ یہ تعلقات دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے تحت جاری رہیں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے شام کی خطے میں اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور تمام بااثر فریقوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران شام کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہوئے مناسب حکمت عملی اپنائے گا، خطے میں موثر اداکاروں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے۔