شام : حلب شہر کے بڑے حصے پر باغیوں نے کنٹرول حاصل کر لیا

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

شام میں باغیوں نے حلب شہر کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

انسانی حقوق پر کام کرنے والے برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ ایس او ایچ آر نے کہا ہے کہ شام میں باغیوں نے ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اس گروپ کے مطابق روس نے سنہ 2016 کے بعد پہلی بار سنیچر کی رات کو حلب کے کچھ حصوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

ایس او ایچ آر کا کہنا ہے کہ بدھ سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں 20 عام شہریوں سمیت 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گذشہ کئی برسوں میں شامی حکومت کے خلاف یہ باغیوں کا یہ ایک بڑا حملہ ہے۔

سنہ 2016 کے بعد یہاں سے بے دخل کیے جانے کے بعد پہلی بار باغی جنگجو بشارالاسد کی افواج سے لڑنے کے لیے حلب میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

شام کے فوجی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حلب کے ایئرپورٹ سمیت شہر کو جانے والے تمام رستے بند کر دیے گئے ہیں۔

شام کی فوج نے سنیچر کو اس کی تصدیق کی ہے باغی حلب شہر کے بڑے حصے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس دوران ان سے ہونے والی لڑائی میں درجنوں شامی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

شام کی فوج نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حلب سے عارضی طور پر فوجی دستے واپس بلائے گئے ہیں تا کہ ان باغیوں کے خلاف جوابی حملے کی تیاری کی جا سکے۔‘

ایس او ایچ آر کے مطابق کسی بڑی مزاحمت کے بغیر ہی باغی حلب شہر کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ ’چونکہ شامی افواج نے پسپائی اختیار کر لی اس وجہ سے شہر میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ سٹی کونسل، پولیس سٹیشننز اور انٹیلی جنس کے دفاتر خالی پڑے ہیں۔ اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا ہے۔‘

اس سے قبل شامی باغی گروہ ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) اور اس کے اتحادی گروہوں کی طرف سے بدھ سے شروع کیے جانے والے حملوں کے بعد جمعے کو حکومتی افواج نے یہ کہا تھا کہ انھوں نے حلب شہر اور ادلب صوبے کی بہت سی جگہوں کا قبضہ باغیوں سے چھڑا لیا ہے۔ ایچ ٹی ایس سے منسلک ایک چینل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں ان باغی جنگجوؤں کو حلب کے اندر دکھایا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اس کے ایک رپورٹر نے باغی جنگجوؤں کو شہر کی مرکزی عمارت کے سامنے دیکھا ہے۔ سنہ 2011 میں جمہور پسند مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد شام میں خانہ جنگی میں اب تک پانچ لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال سے اسد حکومت کے مخالف گروہوں جن میں جہادی بھی شامل ہیں نے ملک میں اس خانہ جنگی سے فائدہ اٹھایا اور مخلتف جگہوں پر قبضے کی جنگ شروع ہو گئی۔

روس اور اس کے اتحادیوں کی مدد سے شام کی حکومت نے بڑا حصہ ان گروہوں سے واپس لے لیا۔

ادلیب میں زیادہ کنٹرول ایچ ٹی ایس کا ہے تاہم ترکی کے حمایت یافتہ باغی اور ترکی کی افواج بھی ادلیب میں موجود ہیں۔

ایس او ایچ آر کے مطابق شامی اور روسی طیاروں نے جمعے کو ادلیب کے قریب 23 فضائی حملے کیے۔ اس گروپ کے مطباق روس کے ان حملوں میں چار عام شہری مارے گئے اور 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ روس کے خبر رساں اداروں کے مطابق روسی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صرف انتہا پسند قوتوں کو ہی نشانہ بنایا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اپنے بیان میں شامی حکومت کے لیے جلد امن و امان کی بحالی کے لیے مدد کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ باغیوں کی طرف سے ملک کی خود مختاری اور سالمیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

Share This Article