اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے عالمی فوجداری عدالت کے فیصلے پر تنقید کی ہے جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت ترکیہ، اسپین ، اٹلی اور دیگر ممالک نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے جمعرات کو اسرائیل وزیرِ اعظم نیتن یاہو سمیت سابق وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ اور حماس کے ملٹری چیف محمد ضعب ابراہیم المصری المعروف محمد ضیف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
ان افراد کو انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔
وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے عالمی فوجداری عدالت کے فیصلے کو یہود مخالف قرار دیتے ہوئے اس کا موازنہ ڈریفس ٹرائل سے کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا انجام بھی اسی طرح ہو گا۔
واضح رہے کہ الفریڈ ڈریفس یہود پس منظر رکھنے والے فرانسیسی آرمی آفیسر تھے جنہیں 1894 میں بغاوت کے الزام میں قید کیا گیا تھا۔ بعد ازاں فرانس کی سیاست میں یہود مخالف مسئلے نے شدت پکڑی اور وہ 1906 میں ڈریفس کی رہائی تک جاری رہی۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے آئی سی سی کے فیصلے کو انصاف کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کا فیصلہ اس وقت تک محدود اور علامتی ہے جب تک تمام ممالک اس کی حمایت نہیں کرتے۔
انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل اگنیس کالامرڈ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو اب سرکاری طور پر مطلوب شخص ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے رکن ممالک اور عالمی برادری کو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک ان شخصیات کو آئی سی سی کے آزاد اور غیر جانبدار ججز کے سامنے ٹرائل کے لیے پیش نہیں کیا جاتا۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے سینئر رہنما اور حماس کے عہدیدار کے خلاف آئی سی سی کے ورانٹ جاری کرنا اس خیال کی نفی ہے کہ مخصوص شخصیات قانون سے بالا ہیں۔
ترکیہ کے وزیرِ انصاف نے آئی سی سی کے فیصلے پر کہا ہے کہ "یہ تاخیر سے آنا والا لیکن مثبت فیصلہ ہے جس سے فلسطین میں نسل کشی کے خاتمے کو روکنے میں مدد ملے گی۔”
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حقان فیدان نے وارنٹ گرفتاری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انتہائی اہم قدم قرار دیا ہے۔
اطالوی وزیرِ دفاع گوئیدو کروسیٹو کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو یا یواو گیلنٹ اٹلی کا دورہ کرتے ہیں تو ان کا ملک انہیں گرفتار کرنے کا پابند ہو گا۔ البتہ گوئیدو نے یہ بھی کہا کہ آئی سی سی کا نیتن یاہو اور حماس کو ایک ہی سطح پر رکھنا غلط تھا۔
اسپین نے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرے گا۔
اسپین کے سرکاری ذرائع نے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا ہے کہ اسپین آئی سی سی کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ وہ عالمی قوانین کے ساتھ کھڑا ہے۔
سوئیڈن کی وزیرِ خارجہ ماریا مالمر کا کہنا ہے کہ سوئیڈن اور یورپی یونین عدالت کے اہم کام کے ساتھ ہیں اور اس کی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بیلجئم کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جہاں کہیں بھی جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے وہاں استثنیٰ کے خلاف جنگ بیلجئم کی ترجیح ہے اور ہم آئی سی سی کے کام کی مکمل طور پر حمایت کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق اسرائیل اور غزہ میں جرائم کے ذمے داروں کے خلاف اعلیٰ ترین سطح پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ چاہے جرم کا مرتکب کوئی بھی ہوا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے کہا ہے کہ آئی سی سی کا فیصلہ عالمی قوانین اور عالمی اداروں پر اعتماد اور امید کو ظاہر کرتا ہے۔
اتھارٹی نے آئی سی سی کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو اور یوو گیلنٹ کے ساتھ رابطوں کو منقطع کریں۔