بلوچستان کے علاقے قلات میں پاکستانی فورسز کے کیمپ پر حالیہ حملے اور جھڑپ میں مارے جانے والے بلوچ عسکریت پسند کی لاش کو حکام نے لواحقین کے حوالہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
واضع رہے کہ 16 نومبر کو قلات کے علاقے جوہان میں فوجی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرلی تھی اور اس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ فورسز کے ساتھ جھڑپ میں شاہ زیب ساتکزئی عرف گُرک نامی ان کا ایک سرمچار ساتھی فوج کے ساتھ دو بدو لڑائی میں شہید ہوا تھاجو بلوچ لبریشن آرمی کے فتح اسکواڈ کا رکن تھا ۔
بی ایل اے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں دشمن فوج کے کم از کم 29 اہلکارہلاک ہوئے اور کیمپ کو قبضے میں لیکر ان کا اسلحہ و گولہ بارود بھی اپنے قبضے میں لئے تھے۔
شاہ زیب کے ہمشیرہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کے منتظر ہیں، مگر حکام نے اب تک لاش کی حوالگی سے انکار کر رکھا ہے۔
شاہ زیب کی ہمشیرہ نے مزید بتایا کہ جب وہ اپنے بھائی کی لاش لینے کے لیے سول اسپتال پہنچے تو اسپتال انتظامیہ نے انہیں سی ٹی ڈی حکام کے پاس جانے کا کہا۔ وہاں جانے پر انہیں قلات میں عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ عدالت بھی گئے، مگر سی ٹی ڈی اور اسپتال انتظامیہ تاحال لاش کی حوالگی سے انکار کر رہے ہیں۔
شاہ زیب کی ہمشیرہ نے بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ کل صبح دوبارہ اسپتال آئیں اور بلوچ ہمدرد دوست بھی ان کے ساتھ آئیں تاکہ وہ اپنے بھائی کی جسد خاکی حاصل کر سکیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں اکثر اسپتال انتظامیہ پاکستانی فورسز کے احکامات پر بلوچ آزادی پسندوں کی لاشوں کی حوالگی سے انکار کر دیتی ہے، اور اس دوران لواحقین سے مختلف دستاویزات جیسے کہ وہ پہلے سے لاپتہ تھے ،پر دستخط کروائے جاتے ہیں۔ بعدازاںحکام ان دستاویزات کو آزادی پسندوں اور سیاسی حلقوں کے خلاف بطور پروپیگنڈہ استعمال کرتے ہیں۔