قلات میں پاکستانی فوجی کیمپ پر حملے میں 29 اہلکار ہلاک،ایک ساتھی سرمچارشہید ہوا ، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں قلات میں پاکستانی فوج کے کیمپ حملے کی تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں کیمپ پر قبضہ کرکے 29 اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا ۔ جبکہ اس حملے میں ایک ساتھی سرمچار شہید بھی ہوا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے مورخہ 16 نومبر کو قلات کے علاقے جوہان میں قابض پاکستانی فوج کے ایک مرکزی کیمپ پر حملہ کرکے دشمن فوج کے کم از کم 29 اہلکاروں کو ہلاک کرکے کیمپ کو قبضے میں لیکر دشمن کا اسلحہ و گولہ بارود اپنے تحویل میں لے لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کا خصوصی ہر اول دستہ "فتح اسکواڈ” کے سرمچاروں نے قلات شہر سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جوہان کے علاقے شاہ مردان میں 15 و 16 نومبر کی درمیانی شب قابض پاکستانی فوج کے 61 ونگ کے کیمپ کو ایک بڑے پیمانے کے حملے میں نشانہ بنایا۔

انہوںنے کہا کہ بی ایل اے کی یونٹ فتح اسکواڈ نے شب نو بجے کے قریب تین اطراف سے دشمن کے مرکزی کیمپ اور آؤٹ پوسٹوں پر حملے کا آغاز کیا، شب ایک بجے تک جاری رہنے والی اس گھمسان حملے میں فتح اسکواڈ قابض فوج کے تین آؤٹ پوسٹوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئی اور مرکزی کیمپ کا رابطہ کاٹ کر اس پر پے درپے حملے کرتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے میں مجموعی طور پر دشمن فوج کے کم از کم 29 اہلکار ہلاک کردیئے گئے، جبکہ متعدد فوجی اہلکار اپنا اسلحہ پھینک کر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہوگئے اور تین آؤٹ پوسٹوں کو خالی چھوڑدیا، اس دوران دشمن فوج کے دس سے زائد اہلکار زخمی ہوگئے۔ بلوچ سرمچاروں نے بڑی تعداد میں دشمن فوج کا اسلحہ و گولہ بارود قبضے میں لیکر بی ایل اے کے اسلحہ خانہ منتقل کردیا۔

بیان میں کہا گیا کہ دشمن فوج سے دو بدو لڑائی میں بلوچ لبریشن آرمی فتح اسکواڈ کا ایک سرمچار شاہ زیب ساتکزئی عرف گُرک گھنٹوں دشمن فوج سے آمنے سامنے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ شہید سنگت شاہ زیب ساتکزئی عرف گُرک ولد امان اللہ ساتکزئی کوئٹہ کے کے علاقے لیس ڈغاری سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ 2018 سے بلوچ قومی آزادی کی تحریک سے منسلک تھے۔ پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے سے قبل آپ کوئٹہ میں بطور شہری گوریلا اپنے قومی فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنگت شاہ زیب ساتکزئی عرف گُرک نے قلات کے محاذ پر کئی معرکوں میں دشمن فوج کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آپ ایک انتہائی جفا کش، مخلص و ملنسار ساتھی تھے۔ آپ خداداد جنگی صلاحیتوں کے مالک تھے، خصوصی طور پر ایمبیوش ٹیکٹکس میں آپ خصوصی مہارت رکھتے تھے۔ بلوچ لبریشن آرمی شہادت کا مرتبت حاصل کرنے پر سنگت شاہ زبیب ساتکزئی کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

جیئند بلوچ نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کی فتح اسکواڈ اس حملے کے مقاصد حاصل کرنے کے بعد واپس اپنے ہیڈکوارٹرز بحفاظت پہنچ گئے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی دشمن فوج پر جاری حالیہ شدید و بڑے پیمانے کے حملوں کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے، ان میں بتدریج شدت لاتی رہیگی۔

Share This Article
Leave a Comment