بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کوئٹہ میں مخبر دشتی خان کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کوئٹہ میں قابض پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے مخبر و آلہ کار دشتی خان کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے یہ کارروائی گذشتہ شب کوئٹہ میں سریاب مِل کے مقام پر سرانجام دیا۔
انہوںنے کہا کہ مخبر و آلہ کار دشتی خان کرد ولد امان اللہ برما ہوٹل سریاب کا رہائشی تھا جوکہ مختلف جرائم میں بی ایل اے کو مطلوب تھا۔ ان جرائم میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ اور ملٹری انٹیلی جنس و سی ٹی ڈی کو معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دشمن آلہ کار دشتی خان سریاب کے علاقے میں گھروں پر متعدد چھاپوں میں دشمن فوج کے ساتھ شریک رہنے سمیت بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی اور جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو قتل کرنے میں براہ راست ملوث تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مذکورہ آلہ کار بلوچ عوام سے سے بھتہ لینے، بندوق کے زور پر نوجوانوں کو بلیک میل کرکے انہیں معاشرتی برائیوں میں استعمال کرنے میں ملوث تھا۔
انہوںنے کہا کہ قومی جرائم میں ملوث ہونے پر بلوچ قومی عدالت نے دشتی خان کو سزائے موت سنائی تھی اور وہ بی ایل اے کے سرمچاروں کے ہٹ لسٹ میں تھا جس پر گذشتہ شب سرمچاروں نے عملدآمد کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی آلہ کار کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اس نیٹورک سے منسلک دیگر افراد کو بھی دشتی خان کی طرح جلد ان ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔