بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کولواہ میں پاکستانی فورسز پر حملے میں6 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کاکہنا تھا کہ سرمچاروں نے 3 نومبر بروز اتوار آواران کے علاقے کولواہ میں مرہ شم اور کنیچی کے درمیان عبدو بازار کے مقام پر قابض پاکستانی فوج پر گھات لگا کر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا، حملہ اتنا شدید تھا کہ 6 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کا یہ قافلہ آواران اور ملحقہ علاقوں میں آپریشن کی غرض سے داخل ہوئے تھے لیکن بی ایل ایف کی انٹیلی جنس ٹیم کی اطلاع پر تنظیم کے اسپیشل اسکواڈ نے گشتی ٹیم کے ساتھ ملکر ان پر شدید حملہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف نے موجودہ دور کے جنگی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر اور جدید بنایا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت تنظیم کی انٹیلی جنس ٹیم،اسپیشل اسکواڈ اور قربان یونٹ ہر محاذ پر متحرک ہیں اور دشمن کو ایسی کاری ضربیں لگا رہے ہیں جن کی دشمن کو توقع نہیں۔ مستقبل میں پاکستانی افواج اور ان کی اہم تنصیبات پر بھرپور اور حیرت انگیز حملے کیے جائیں گے، جس سے دشمن کی طاقت کو منہدم کرکے اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بلوچ سرزمین پر قبضہ کرکے نہ صرف بلوچ قوم کی تاریخ و ثقافت کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ اپنے جابرانہ کارروائیوں سے ظلم و بربریت کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ لیکن بلوچ قوم کے بہادر فرزند ہر محاذ پر، بالخصوص مسلح جدوجہد میں، دشمن کو پے در پے شکست دے رہے ہیں، جس سے دشمن نفسیاتی زوال اور مایوسی کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ پاکستانی فوج کے انخلاء تک بلوچستان میں مسلح حملے جاری رہیں گے۔