پاکستان کے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت 3 سے بڑھ کر 5 سال کرنے کے حوالے سے کام شروع کردیا گیا،اب پارلیمنٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کیے جانے کا امکان ہے ۔
اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کی ترمیم منظور کر لی۔
مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال، پارلیمانی امور اور قانون سازی سے متعلق مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کے بل کے مسودے کی منظوری دے دی جب کہ فوجی سربراہان کی مدت میں بھی توسیع کی ترمیم کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے آج ہی قومی اسمبلی سے آرمی ایکٹ اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترامیم کی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔
اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک درست سمت میں جا رہا ہے، معیشت بہتر اور سرمایہ کاری ہو رہی ہے، سیاست قربان کر کے ملک کے لیے سوچنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے بھی شرح سود میں 250 پوائنٹس کی کمی کردی، 250 پوائنٹس کی کمی سے شرح سود 17.5 فیصد سے 15 فیصد پر آنا خوش آئند ہے، شرح سود میں کمی سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہوکر 7 فیصد تک آگئی، قومی و بین الاقوامی ادارے ملکی معیشت کے استحکام کی گواہی دے رہے ہیں۔
ن لیگ ذرائع کے مطابق حکومت کی آرمی ایکٹ میں ترمیم لانےپر مشاورت جاری ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ حکومت کی سروسزچیف کی مدت ملازمت بڑھانے پر مشاورت جاری ہے، سروسز چیفس کی مدت ملازمت 3 سے بڑھا کر 5 سال کی جائے گی۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی میں آج پیش کیے جانےکا امکان ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل پراتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے۔
دوسری جانب حکومت نے سپریم کورٹ میں ججزکی تعداد بڑھاکر 25 کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
بعض ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 34 کرنےکی تجویزبھی پیش کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ججز کی تعداد بڑھانے کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے اور منظورکیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ ججز کی تقرری کب کرنی ہے فیصلہ جوڈیشل کمیشن کرے گا۔
قومی اسمبلی اجلاس کچھ دیر میں ہوگا جس میں اہم قانونی سازی کا امکان ہے۔