بلوچ طلبا کی جبری گمشدگیوں میں تیزی سے اضافہ تشویشناک ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

انسانی حقوق کے سرگرم و متحرک کارکن اور ابلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پراپنے ایک پوسٹ میں بلوچستان سمیت پنجاب میں بلوچ طلبا کی جبری گمشدگیوں میں تیزی کے ساتھ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

داکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں اور پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں میں تیزی سے اضافہ تشویشناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز حامد بلوچ ولد خان محمد سکنہ بلیدہ کیچ اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ سوشیالوجی میں 7ویں سمسٹر کے طالب علم کو ریاستی خفیہ ایجنسیوں نے ابراہیم ہسپتال سرگودھا پنجاب کے سامنے بہادر شاہ ظفر روڈ سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ اب تک نہ تو اسے کسی عدالت یا تھانے میں پیش کیا گیا اور نہ ہی اس کے گھر والوں کو اس کے مقام کے بارے میں بتایا گیا۔

ڈاکٹر نے کہا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء کے خلاف طاقت کے استعمال اور تشدد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ روز جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ نے پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طلبہ پر حملہ کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کے بجائے بلوچ طلباء کو ہراساں کیا جس کے نتیجے میں دس کے قریب طلباء کو گرفتار کیا گیا جو کہ پولیس کی حراست میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال فوری طور پر بند کیا جائے۔

Share This Article
Leave a Comment