لبنان کے دارلحکومت بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے 2 اہم کمانڈروں سمیت 31 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسرائیل نے جمعے کو بیروت میں ایک آٹھ منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا تھا۔
لبنان کے وزیرِ صحت فراس عابد نے ہفتے کو میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سات خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔
وزیرِ صحت کے مطابق واقعے میں 68 افراد زخمی ہوئے تھے جن میں 15 بدستور اسپتال میں داخل ہیں جب کہ جائے وقوعہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے کارروائی میں حزب اللہ کی ایلیٹ فورس کے کمانڈر ابراہیم عقیل سمیت 11 اہم ذمے داران کو ہلاک کیا ہے۔
حزب اللہ نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملے میں اس کے 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو سینئر کمانڈر بھی شامل ہیں۔
ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے کمانڈرز میں ایلیٹ یونٹ کے سینئر رکن ابراہیم عقیل اور اسپشل فورس کے کمانڈر احمد وہابی شامل ہیں۔
لبنان کے سیکیورٹی اہلکاروں نے متاثرہ عمارت کا گھیراؤ کرتے ہوئے وہاں کسی کو بھی جانے سے روک دیا تھا لیکن ہفتے کی صبح حزب اللہ کے میڈیا آفس نے مقامی صحافیوں کو جائے وقوعہ کا دورہ کرایا جہاں امدادی رضا کار ملبہ ہٹانے کا کام کر رہے تھے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فضائی حملے سے قائم اسٹریٹ پر واقع آٹھ منزلہ عمارت اور اس کے برابر والی عمارت کو نقصان پہنچا جہاں حزب اللہ کے رہنماؤں کا اجلاس ہو رہا تھا۔
میزائل حملے کے نتیجے میں متاثرہ عمارت کے قریب دکانوں کو بری طرح نقصان پہنچا۔ جمعے کو ہونے والی فضائی کارروائی ایسے موقع پر ہوئی جب حزب اللہ نے کئی گھنٹے قبل اسرائیل کے شمالی علاقوں کی جانب کئی راکٹ فائر کیے جن میں سے کئی راکٹس اسرائیل کے دفاعی نظام آئرن ڈوم نے فضا میں ہی تباہ کر دیے تھے۔
اسرائیل نے یہ تازہ کارروائی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کے اس بیان کے بعد کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جنگ کا رخ اب شمالی سرحد کی جانب ہو گا اور جنگ کا نیا مرحلہ ہدف حاصل کرنے تک جاری رہے گا۔