خیر بخش مری ، بلوچ قومی تحریک آزادی کا کرشمہ ساز انقلابی معلم و رہنما

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

اداریہ ماہنامہ سنگر

دنیا میں محکوم و غلام قوموں کی آزادی کو جہاں متاثرہ اقوام کے عوام نے اپنی بھر پور شرکت اور قربانیوں سے ممکن بنایا وہاں قیادت کی گہری سوجھ بوجھ ، انقلابی نظریاتی بنیادوں پر استواری اور طریقہ جدو جہد کے درست انتخاب نے بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا، کہا جاتا ہے کہ آزادی اور انقلاب کی کامیابی کیلئے معروضی حالات کا سازگار ہونا ضروری ہے، آزادی اور انقلاب کیلئے سازگار معروضی حالات قابض نو آبادیاتی حکمران قوتوں کے داخلی تضادات میں شدت ، حکمرانوں کا اپنے ہی بنائے گئے آئین وقوانین اور ریاستی و انتظامی ڈھانچے پر اپنے مذموم مفادات کے تحفظ اور حصول کے حوالے سے عدم اطمینان ، ریاستی اداروں میں اندرونی ٹوٹ پھوٹ ، باہمی ٹکراو¿ ، بد ترین اقتصادی بحران ، سماجی خلفشار اور محکوم اقوام و مظلوم عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی ، معاشی تنگ دستی ، ریاستی قوتوں اور نظام سے بیزاری نو آبادیاتی ریاستی قوتوں کیخلاف نفرت اور آزادی و انقلاب کی خواہش اور دیگر صورتوں کے اظہار کو قرار دیا جاتا ہے ۔

لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت اور مسلمہ قانون ہے کہ جتنا اہم معروضی حالات ہیں اتنے ہی اہم موضوعی یا داخلی حالات کا تیار ہونا بھی نا گریز ہے ، آزادی اور انقلاب کی یہ موضوعی شرائط ایک انقلابی پارٹی یا قیادت کی موجودگی ہے ، قیادت یا پارٹی دراصل سوجھ بوجھ کا مجموعہ ہوتی ہے جس کا تعلق نظریے اور گہرے شعور سے ہوتا ہے، جو معروض کو یکسر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، انسانی شعور کی معروض میں مداخلت ہی آزادی و انقلاب کی منزل تک رسائی ممکن بناتی ہے، جہاں کہیں بھی آزادی پسند انقلابی قیادت کا فقدان پیدا ہوا وہاں سازگار معروضی حالات کے باوجود آزادی اور انقلاب کی منزل کو حاصل نہیں جا سکا ، اسی تناظر میں تاریخی حقائق یہ بھی بتاتے ہیں کہ انقلابی اجتماعی قیادت میں شعور کی اعلیٰ انفرادی صلاحیتوں کی تفریق بھی نمایاں رہی ہے ، جو تاریخ میں فرد کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ اگر روس میں لینن، چین میں ماﺅزے تنگ ، ویت نام میں ہوچی منہ اور کیوبامیں فیڈل کا سترو اور چے گویرانہ ہوتے تو شاید وہاں انقلاب اور آزادی کی تحریکات کو وہ کامیابی نصیب نہ ہو سکتی جو وہاں کی تحریکوں نے حاصل کی ، تاریخ میں فرد کا یہی کردار بلوچ قومی تحریک میں انقلابی نظریہ دان سردار خیر بخش مری کا بھی ہے، جو اپنے انقلابی فکرو عمل کے باعث ایک کرشمہ ساز کے طور پر سامنے آئے ۔آ پ نے نو آبادیاتی پاکستانی محکومی کی شکار بلوچ قوم کی مایوسی اور سیاسی طور زوال پذیر رد انقلابی کیفیت کو یکسر بدلتے ہوئے قابض قوتوں اور ان کی حواری قوتوں کی خوش گمانیوں اور لمبے چوڑے تجزیوں کو چکنا چور اور غلط ثابت کردیا ۔

سردار خیر بخش مری نہ صرف ایک بلوچ آزادی پسند گوریلا لیڈر تھے بلکہ بلوچ تحریک آزادی کو سائنسی انقلابی نظریے پر استوار کرنے ، ایک جدید منظم سیاسی و مسلح چھاپہ مارتیظم تشکیل دینے اور طریقہ جدوجہد میں نئی حکمت عملیوں کو متعارف کرانے میں تخلیقی کردار کے بھی حامل تھے ۔ یہ آپ کے اسی اعلیٰ تخلیقی فکروعمل کا نتیجہ تھا کہ گذشتہ صدی کی آخری دہائی تک بظاہر مردہ یا قریب المرگ قرار دی جانے والی بلوچ قومی تحریک آجوئی رواں صدی میں قدم رکھتے ہی ایک ایسی توانا صورت میں ابھری کہ دشمن حیرت سے منہ میں انگلیاں دبا کر رہ گئے اور مخالفین نے اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا ، سردار بخش مری پنجابی بالادستی اور بلوچستان پر نو آبادیاتی قبضے سے مکمل آزادی چاہتے تھے، آپ آزادی کی بجائے پنجابی حکمرانوں سے چند مراعات ، سطحی اصلاحات اور ذاتی و گروہی مفادات کے حصول کو بلوچ قوم کی غلامی کو دوام بخشنے کے مترادف خیال کرتے تھے ،۔

بلوچ قوم کی غلامی کے گہرے کرب نے آپ کو کبھی چین سے نہیں بیٹھنے دیا اور اپنی سیاسی زندگی کی ابتداءسے لے کر اختتام تک آپ بلوچ قومی شناخت کی آزاد اور جداگانہ حیثیت کی بحالی کیلئے کوشاں رہے ، اگرچہ شروع میں آپ پاکستانی پارلیمانی اداروں میں بھی گئے لیکن بلوچ کیلئے وہاں کچھ نہ پاکر پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہو گئے۔ آپ اپنے تلخ تجربے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان کے استعماری ریاستی ڈھانچے پر اصل بالادستی پنجاب کی ہے ، جو بلوچ قوم سمیت کمزور اور پسماندہ اقوام کی سر زمین ، وسائل اور منڈیوں کی لوٹ کھسوٹ کے ذریعے اپنے نو آبادیاتی مفادات کا حصول چاہتا ہے ، جس کیلئے نہ تو آئین و قانون اور نہ ہی جمہوری و اعلیٰ انسانی اقدار کی اسے پرواہ ہے ، پنجابی حکمران اپنے زیر قبضہ اقوام کو مانگنے سے نہ تو بنیادی حقوق دیں گے اور نہ ہی آزادی ، بلکہ ایسی کسی بھی آواز کو بزور ریاستی طاقت کچل دیا جائے گا جس کا عملی مظاہرہ بلو چستان میں فوجی جارحیت کی صورت میں متعدد بار کیا گیا ،لہٰذا پنجا بی کی طا قت کا جواب طاقت سے دینا ہو گا جس کیلئے آپ نے ایک منظم اور صریح الحرکت مسلح جدوجہد کو فیصلہ کن ، موثر اور نتیجہ خیز قراردیا،خیر بخش مری کے بلوچ آزادی پسند فکرو فلسفے اور استعماریت سے نفرت میں آپ کے گھرانے اور آباواجداد کی حریت پسندانہ تاریخ کا اہم کردار ہے،کیو نکہ بلوچ قو می آجو ئی اور قا بض دشمن سے دلیرانہ صف آرائی کا درس سب سے پہلے آپ کو اپنے گھر سے ملا ، جسے آپ نے اگلی نسل تک منتقل کر دیا۔

اس ضمن میں آپ کے صا حبزادے شہید بالاچ مری کا مسلح جدوجہد کے جواں سال بہادر قا ئد کا بلوچ آزادی کیلئے عملی انقلا بی کردار اور جان نثاری تاریخ میں سنہرے حروف سے رقم ہو چکی ہے،خیر بخش مری نے قبضہ گیر قو توں کی سا زشوں ، جبر و استبداد ، قیدوبند اور حالات کی سختیوں کا بھی سامنا کیا ، ان سختیوں نے آپ کو مرعوب کر نے کی بجا ئے مزید توانا اور کندن بنا دیا ، اور آپ بہتے دھارے کی رو میں بہنے کی بجا ئے اس کی سمت موڑنے وا لے د یو ما لا ئی کردار کا روپ دھار گئے ، آپ کے تا ریخ ساز کردار کی صرف بلوچ قوم ہی نہیں بلکہ پو ری دنیا معترف ہے ، اسی لئے بلوچ قو می تا ریخ میں جو اعلیٰ مقام آپ کو حاصل ہے وہ شاید کسی اور کو نہ مل سکے ، خیر بخش مری آج دنیا میں نہیں رہے مگر آپ کی نظریا تی و عملی تعلیمات ہمیشہ بلوچ قو می تحریک آجو ئی کی کامیا بی اور ایک آزاد بلوچ سماج کی انقلابی تشکیل میں رہنما یا نہ کردار ادا کر تی رہیں گی، ہم بلوچ قو می تحریک کے سر خیل اور کرشمہ ساز انقلا بی نظریہ دان کو انتہا ئی عقیدت و احترام سے سر جھکا کر خراج تحسین پیش کر تے ہیں اور امید کی جا تی ہے کہ بلوچ قوم اپنے اس عظیم رہنما اور انقلا بی معلم کی عزت و تو قیر کر تے ہو ئے آپ کے چھوڑے ہو ئے بلوچ قو می آجو ئی اور انقلاب کے مشن کو پا یہ تکمیل تک پہنچائے گی۔
٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment