بلوچستان کا مسئلہ اونرشپ کا ہے،اسے دہشتگردی سے جوڑنا غیر سنجیدہ طرزِ عمل ہوگا ،اے این پی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

عوامی نیشنل پارٹی کے بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی اور پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی پر مشتمل وفد نے وزیر اعلیٰ ہائوس میں وزیر اعظم شہباز شریف کے زیر صدارت سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں اصغرخان اچکزئی نے سیاسی وعسکری قیادت کو بلوچستان کی حالیہ صورتحال پر اپنی پارٹی کی طرف سے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج بلوچستان کے طول وعرض میں جو عدم استحکام پایا جارہاہے بد بختانہ اس کو پہلے دن سے سنجیدہ نہیں لیاگیا۔ 1893بعد ازاں 1947سے لیکر 76سالوں کے دوران ڈیورنڈ لائن پر برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ آمدورفت سے لیکر تجارت رشتہ داریوں تک سب کچھ معمول کے مطابق چل رہے تھے اچانک لاکھوں کی آبادی کو نان شبینہ کا محتاج بنادیا گیا جوکہ نہ صرف چمن بلکہ بلوچستان بھر میں بے روزگاری احساس محرومی و بدامنی کے واقعات کے موجب بنی۔

اصغرخان اچکزئی نےشرکا پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی معاشی وسائل پر اختیار اور اونرشپ کا ہے۔ اونرشپ اور وسائل پر دسترس نہ ہونے سے یہاں احساس محرومی تو پہلے پائی جاتی تھی اب صورت حال احساس بیگانگی کی جانب گامزن ہے اس مسئلے کو دہشت گردی سے جوڑنا یا خیرات کے پیکیجز سے حل کرنا غیر سنجیدہ طرزِ عمل ہوگا ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آن دی ریکارڈ کہہ رہا ہوں کہ مکران ڈویژن عملا ریاست کے ہاتھ سے کافی آگے نکل چکا ہے قلات نکلنے کے مراحل سے گزر رہا ہے یہی صورت حال برقرار رہی تو عنقریب سبی رخشان ڈویژن کا حال ان سے شاید مختلف نہ ہو اور پہلے سے دہشت گردی کی شکار اور پھر رواں مسلط بے روزگاری شاہد پشتون بیلٹ کو اس طرح کے حالات سے دوچار کرکے بچنے کے امکانات بہت کم ہوں گے اتنے اہم مسئلے کو ریاستی سطح پر ایک ایس ایچ او کی مار کہنا انتہائی بچگانہ عمل ہے۔ بلوچستان کے مسئلے کو کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے ذریعے ہینڈل کرنے پر صاحب اقتدار کو غور کرنا ہوگا۔

شرکا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب سے بھاری بھر پیکجز پر آفیسروں کی تعیناتی کے اقدامات سمجھ سے بالاتر ہے اور اپنے آپ کو دھوکہ دینے اور مزید پیچیدگیوں کو پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔

Share This Article
Leave a Comment