پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور لیاری سے 3 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
لاپتہ کئے گئے تینوں نوجوانوں کی شناخت نصیب اللہ ولد حاجی نذیر، رحمان ولد اسلم اور حسنین ولد خالد کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
نصیب اللہ کو گوادر سے جبکہ رحمان اسلم اور حسنین خالد کو لیاری سے لاپتہ کیا گیا ہے۔
گوادر سے ذرائع کا کہنا ہے کہ فرنٹیئر کور(ایف سی) اور کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے کارندوں نے گوادر گرائمر اسکول کے سامنے پرچون کی دوکان سے نصیب اللہ کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا۔
نصیب اللہ کا تعلق خاران سے بتایا جاتا ہے ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ نصیب اللہ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 28 جولائی کو منعقدہ بلوچ راجی مچی کے دوران دکان کھول کر لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کی پاداش میں لاپتہ کیا گیا۔
دوسری جانب گذشتہ شب کراچی میں لیاری کے علاقے آٹھ چوک سے فورسز وخفیہ اداروں نے رحمان اسلم اور حسنین خالد نامی دو ناجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوانوں کا تعلق پیشن سے ہے اور ابھی کراچی میں زیر تعلیم ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ انہیں گذشتہ شب 10 بجے قریب سیادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد اور پولیس نے حراست میں لینے بعدلاپتہ کیا گیا۔
فیملی نے لیاری وکراچی کے تما م تھانوں میں معلومات لی جہاں انہیں نہیں رکھا گیا ہے۔