ایران میں پاکستانی زائرین کی بس کو حادثے میں 11 خواتین سمیت 28 افراد ہلاک ہوگئے۔
ایران میں پاکستان کے سفیر محمد مدثر کا کہنا ہے کہ وسطی ایران کے صوبے یزد میں پاکستانی زائرین کی بس کو پیش آنے والے حادثے میں 28 افراد ہلاک جبکہ 23 زخمی ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی پولیس کی ابتدائی تفتیش کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حادثہ منگل کی رات پیش آیا اور اس کی وجہ بس کے بریک نظام میں خرابی بنی۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق حادثہ ایرانی دارالحکومت تہران سے تقریباً 500 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع شہر تافت کے باہر پیش آیا ہے۔ حادثے کے وقت بس میں 51 افراد سوار تھے۔
یزد کے کرائسس مینجمنٹ کے شعبے کے ڈائریکٹر کے مطابق اس حادثے میں مرنے والوں میں 11 خواتین اور 17 مرد شامل ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے ہلاک شدگان کی تعداد 35 بتائی تھی۔
حادثے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ہنگامی امداد کے شعبے کے ایک اہلکار محمد علی ملک زادہ نے سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ زخمیوں سے 14 کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستانی زائرین میں سے زیادہ تر کا تعلق سندھ کے ضلع لاڑکانہ، گھوٹکی اور دیگر شہروں سے بتایا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ لاکھوں شیعہ زائرین ہر برس اربعین کے سالانہ جلوس میں شرکت کے لیے عراق کا رخ کرتے ہیں۔
اربعین شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک اہم دن ہے۔ یہ اس واقعے کے چالیس روز کی تکمیل کی یاد ہے جب امام حسین، ان کے خاندان اور ان کے ساتھیوں کو کربلا کے مقام پر یزیدی افواج نے قتل کر دیا تھا۔