بنگلہ دیش میں نوکریوں میں کوٹہ سسٹم کیخلاف اٹھنے والی تحریک سول نافرمانی میں تبدیل کر وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو استعفی دینے پر مجبور کرگیا۔
ابھی ابھی اطلاعات ہیں کہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ مستعفی ہوچکی ہیں اور ملک چھوڑ بھارت روانہ ہوچکی ہیں۔
کئی مظاہرین شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہوگئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔
آرمی چیف وقار الزمان کا خطاب کچھ دیر میں متوقع ہے۔ یہ خطاب ’سٹیک ہولڈرز‘ سے ملاقاتوں کے باعث تاخیر کا شکار ہوا ہے۔
ڈھاکہ میں ہزاروں لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 90 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
گذشتہ ایک ماہ کے دوران ان پُرتشدد مظاہروں میںاب تک 300 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب طلبہ نے سرکاری نوکریوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ یہ مظاہرے حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے جس میں شیخ حسینہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
بی بی سی کے مطابق شیخ حسین کے استعفے پر لوگ جشن منا رہے ہیں اور اس حوالے سے ہزاروں لوگ نعرے بازی کر رہے ہیں۔
گذشتہ کئی ہفتوں سے لوگ انھیں آمر کہہ رہے تھے یعنی مظاہرین کے مطابق یہ ایک آمر کے خلاف فتح ہے۔
بنگلہ دیش بظاہر اب ایک جماعت کی ریاست بن رہی تھی جہاں اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور نقاد کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔
ابتدائی طور پر شیخ حسینہ نے مظاہرین کے مطالبے کو نہیں سنا۔ انھوں نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا اور 300 افراد کی اب تک ہلاکت ہوئی ہے۔
حکومت کے حامی گروہوں نے بھی طلبہ کے خلاف آپریشن کیا۔
اس پر لوگ مشتعل ہوئے اور انھوں نے شیخ حسینہ سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ڈھاکہ کی طرف لانگ مارچ کا صرف ایک یہی مطالبہ تھا۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود لوگ باہر نکلے اور شیخ حسینہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ہے۔
وہ سنہ 2009 سے بنگلہ دیش کی حکمران رہنے والی شیخ حسینہ ہیلی کاپٹر میں انڈین شہر اگرتلا روانہ ہوئی ہیں۔