بنگلہ دیش : سول نافرمانی کی تحریک شروع، پرتشدد مظاہروں میں مزید 83 افراد ہلاک،کرفیو نافذ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بنگلہ دیش میں سرکاری نوکریوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والی طلبہ تحریک سول نافرمانی سے ہوتا ہواشیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف تحریک میں بدل چکی ہے اور پرتشدد مظاہروں میں اتوار کے دن 83 افراد کی ہلاکت کے بعد وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے۔

جولائی میں شروع ہونے والی اس تحریک میں اب تک مجموعی طور پر 280 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

ایسے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ولکر ترک نے بنگلہ دیش کی حکومت اور سکیورٹی فورسز پر زور دیا ہے کہ وہ ’تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حیران کن تشدد کا خاتمہ کریں۔‘

وزیر اعظم شیخ حسینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں بنگلہ دیشی مظاہرین کی حکومت کے حامیوں اور پولیس سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ریلیوں اور تشدد کے نتیجے میں کم از کم 83 افراد مارے گئے ہیں۔

چند روز حالات معمول پر رہنے کے بعد بنگلہ دیش میں دوبارہ پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بروز اتوار ہزاروں مظاہرین لاٹھیاں اٹھائے ڈھاکہ کے مرکزی شاہ باغ چوک پر جمع ہوئے۔ کئی مقامات کے ساتھ دیگر اہم شہروں کی سڑکوں پر بھی پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

پولیس انسپکٹر الحلال نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، طلبہ اور حکمران جماعت کے حامیوں کے مابین جھڑپیں ہوئیں جبکہ ڈھاکہ کے منشی گنج علاقے میں دو نوجوان مارے گئے۔‘‘

ایک دوسرے پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’’پورا شہر میدان جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ہزار مظاہرین کے ہجوم نے ایک ہسپتال کے باہر کاروں اور موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔ پولیس اور ڈاکٹروں نے پبنا اور رنگ پور اور ماگورا میں مزید 50 اموات کی اطلاع دی ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے مختلف شہروں میں غیرمعینہ مدت تک کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا کہ جو لوگ ’’تخریب کاری اور مظاہروں کے نام پر تباہی پھیلا رہے ہیں وہ اب طالب علم نہیں ہیں بلکہ مجرم ہیں۔‘‘ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ’’وہ ایسے مظاہرین سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں۔‘‘

آصف محمود ملک گیر سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے والے اہم احتجاجی رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ چند ہفتے قبل ہونے والے ایسے مظاہروں کو سکیورٹی فورسز نے کچل دیا تھا۔

چند ہفتے پہلے فوج نے کچھ مظاہروں کے بعد امن بحال کرنے میں مدد فراہم کی تھی لیکن اس کے بعد سے کچھ سابق فوجی افسران طلبہ تحریک میں شامل ہو چکے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل اقبال کریم نے طلبہ کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی فیس بک پروفائل کی تصویر کو سرخ کر دیا ہے۔

موجودہ آرمی چیف وقار الزماں نے ہفتے کے روز ڈھاکہ میں فوجی ہیڈکوارٹرز میں افسران سے بات کرتے ہوئے انہیں بتایا، بنگلہ دیش کی فوج عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔‘‘

ہفتے کو فوج کی طرف سے رات دیر گئے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، فوج ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ عوام کی خاطر اور ریاست کی کسی بھی ضرورت کے دوران وہ ایسا ہی کرے گی۔‘‘ بیان میں مزید یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا وہ مظاہرین کی حمایت کرتی ہے؟

بنگلہ دیش میں ابتدائی احتجاجی مظاہرے کرنے والی تنظیم اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمینیشن‘‘ نے ہفتے کے روز اپنے ہم وطنوں پر زور دیا تھا کہ وہ کل بروز اتوار سے مکمل عدم تعاون کی تحریک شروع کریں۔ طلبہ گروپ کے لیڈر آصف محمود نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، اس میں ٹیکسوں اور یوٹیلیٹی بلوں کی عدم ادائیگی، سرکاری ملازمین کی ہڑتالیں اور بینکوں کے ذریعے بیرون ملک سے ترسیلات زر کی ادائیگی کو روکنا شامل ہے۔‘‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment