بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے گوادر میں جاری دھرنا گاہ سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مذاکرات پر طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتی ہے۔ اس لیے ایک طرف ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) گوادر کو ہم سے مذاکرات کے لیے بھیجا گیا ہے تو دوسری طرف بدترین قسم کی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
ان کاکہناتھا کہ ریاستی طاقت اور تشدد کے استعمال سے مکران میں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے اور ریاست اس خطرے کو بڑھانے کے لیے اور بھی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔
انہوںنے کہا کہ ہم ریاست پاکستان سے واضح طور پر کہتے ہیں کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو طاقت اور تشدد کا استعمال فوری طور پر بند کیا جائے اور بااختیار نمائندے مذاکرات کے لیے بھیجے جائیں۔
بی وائی سی سربراہ نے پریس کانفرنس میں اپنے مطالبات بھی پیش کردیئے۔
پیش کردہ مطالبات میں کہا گیا ہے کہ مستونگ، تلار، گوادر، نوشکی اور تربت میں فائرنگ کے واقعات کی ایف آئی آر، جہاں فرنٹیئر کور (ایف سی) نے مظاہرین کو شہید اور زخمی کیا، کور کمانڈر کے خلاف درج کیا جائے۔
محکمہ داخلہ کو فوری طور پر مطلع کرنا چاہئے کہ ریاستی فوج کی طرف سے طاقت یا تشدد کا مزید استعمال نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کو گوادر آکر ہمارے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں تسلیم کرنا چاہیے کہ اس پورے عرصے میں ہونے والے نقصانات کی ذمہ دار حکومت بلوچستان ہے۔ انہیں تسلیم کرنا چاہئے کہ انہوں نے اس عوامی پرامن پروگرام کو تشدد سے کچلنے کی کوشش کی اور طاقت کے استعمال کا حکم پاس کیا۔ حکومت بلوچستان جانی و مالی نقصان کی مذمت کرے۔
بلوچ قومی اجتماع کے تمام شرکاء جنہیں گرفتار کیا گیا ہے یا پرامن اجتماعات اور ان کے گھروں سے زبردستی غائب کیا گیا ہے، انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے، اور تمام ایف آئی آرز کو منسوخ کیا جائے۔
تمام سڑکیں دوبارہ کھولی جائیں، گوادر سمیت مکران میں غیر اعلانیہ کرفیو فوری طور پر ہٹایا جائے، گوادر میں پانی کی سپلائی بحال کی جائے، اور پورے خطے میں انٹرنیٹ سروس فوری طور پر بحال کی جائے۔
حکومت پاکستان مطلع کرے کہ بلوچ قومی اجتماع کے کسی بھی شریک یا مددگار کو ہراساں نہیں کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں مزید کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔ مزید یہ کہ آئندہ کسی بھی پرامن پروگرام میں غیر ضروری طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
بلوچستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ عام لوگوں کو بلوچ قومی اجتماع کے دوران ریاستی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے ہونے والے مالی نقصانات کی تلافی کرے، جس میں ان کے گھروں میں گھسنا، گاڑیوں کو جلانا، یا ذاتی سامان ضبط کرنا شامل ہے۔