گوادر: پاکستانی حکام کا بی وائی سی کی قیادت کو قتل کرنے کی دھمکی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی حکام نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو دھرنا ومظاہروں کو ختم نہ کرنے کی صورت میں  بی وائی سی کی قیادت کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

گوادر میں آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری ہے۔ شہر میں ایک ہفتے سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے جب کہ پاکستانی فورسز فرنٹیئر کور کی بڑی تعداد کو تعینات کرکے تمام راستوں کو بند کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، سمی دین بلوچ، ڈاکٹر صبیحہ، صبغت اللہ کو ایک وفد بھیجا ہے اور دھمکی دی ہے کہ دھرنا ختم نہ کرنے کی صورت میں بی وائی سی کی قیادت کو براہ راست فائرنگ کرکے قتل کردیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ دھمکی پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک افسر کے حکم پر دی گئی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ آئی ایس آئی افسر گزشتہ ایک ہفتے سے بلوچ راجی مچی اور دھرنے کو سبوتاژ کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس گوادر میں  موجود ہے۔

واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات بھی ہوچکے ہیں تاہم بی وائی سی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نکات پر عمل نہیں کیا جارہا ہے، تاہم مطالبات کے برعکس گوادر تاحال فوجی محاصرے میں ہے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔

Share This Article
Leave a Comment