بلوچستان کے علاقے نوشکی میں گذشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پرامن ریلی پر پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے متعددا فرادکی زخمی ہونے اور ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعداحتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔
قومی شاہراہ این 40 اسٹیشن قلم چوک پر دھرنا جاری ہے ، عوام نے احتجاجاً مرکزی شاہراہ کو ہرقسم کی آمد و رفت کیلئے بند کردیاہے۔
این 40 پر ٹریفک معطل، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ نوشکی میں پرامن مظاہرین کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب خواتین ایک بڑی تعداد دھرنا دیئے ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز بے لگام اور باولے ہوچکے ہیں جو پرامن مظاہروں سے خوف کا شکار ہیں۔
انہوںنے کہا کہ گذشتہ چھ روز سے گوادر سے لیکر تلار، مستونگ، چاغی حب الغرض بلوچستان بھر میں بلوچ پرامن مظاہرین پر پاکستانی فورسز کی جانب آتش و آہن برسائی جارہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس ظلم و جبر سے کسی طور اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹھے گی بلکہ عوامی مزاحمت میں مزید شدت آئے گی۔ پاکستانی اسٹیبشلمنٹ ایک بار پھر ایک تاریخی غلط پالیسی پر گامزن ہے جو سمجھتی ہے کہ طاقت کے زور پر بلوچ عوام کو ان کے حقوق کی مانگ سے دستبردار کیا جاسکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مزاحمتی احتجاجی تحریک شدت کے ساتھ جاری رہے گی اور بلوچ نوجوانوں کے بہنے والا خون اس کو توانائی بخشے گی۔
بی وائی سی کا کہنا تھا کہ نوشکی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کےامن مظاہرین پر پاکستانی سیکورٹی فورسز نے اندھادھند فائرنگ کی جس سے متعد افراد زخمی جبکہ ایک نوجوان شہید ہوگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست بلوچ قوم کو کچلنے اور خاموش کرنے کے ہر ممکن و ناممکن حربے کو استعمال کر رہا ہے مگر بلوچ کسی صورت اپنے اوپر ریاستی ظلم کے خلاف خاموش نہیں ہوگا۔