بلوچ راجی مچی کی حمایت کی پاداش میں ڈیرہ غازی خان سے 3 افراد کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا جبکہ لیاری میں راجی مچی کے شرکا کو پانی پلانے پر ایک شخص گرفتارکرلیاگیا۔
ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ شریف فورسز وخفیہ اداروں نے رات گئے مختلف گھروں پر چھاپہ مار کر گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی منعقدہ اجتماع بلوچ راجی مچی کی حمایت کرنے کی پاداش میں بلوچ سیاسی کارکنان ماما اشرف آزتانی ، رسول بخش شہوانی اور ذولفقار بلوچ کو ان کے گھر سے حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق ذولفقار کے گھر میں توڑ پھوڑ کرکے دروازے توڑدیئے گیے ۔
بتایا جارہاہے کہ ذولفقار کو اس سے قبل دو دفعہ فورسز اور ایجنسیوں نے اغوا کرکے لاپتہ کردیا تھا ،اب یہ ی تیسری بار ہے انھیں جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے ۔
دوسری جانب بلوچستان کے علاقے لیاری میں بلوچ راجی مچی کیلئے گوادر جانے والے قافلے جنہیں فورسز نے لیاری کے علاقے مکران کوسٹل ہائی کے زیروپوائنٹ پر 4 دنوں سے روکے رکھا تھا اور وہ محصورتھے ،جن کی اشیائے خوردونوش بھی ختم ہوگئے تھے ۔ خواتین وبچے بھوک وپیاس سے نڈھال تھے اور وہ پانی و خوارک کی تلاش میں تھے کہ انہیں قریبی گائوں کے لوگوں نے کھانا دیا ، پانی پلائی ۔
کھانا و پانی پلانے کی پاداش میں مذکورہ گائوں کے مکھیہ عبدالستار انگاریہ کو فوررسز نے حراست میں لے لیاہے ۔
اب اطلاعات ہیں کہ وہ فورسز کی کسٹڈی میں ہیں۔