بنوں جرگہ میں عمائدین کا آپریشن عزم استحکام پر تحفظات کا اظہار

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بنوں جرگہ ممبران نے آپریشن عزم استحکام سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے سامنے 16 مطالبات رکھ دیے، وزیراعلی خیبرپختونخوا نے جرگہ کے تمام مطالبات سے اتفاق کرتے ہوئے اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اشارہ دے دیا۔

گذشتہ روزخیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بنوں عمائدین اور حکومت کے درمیان جرگہ اختتام پذیر ہوگیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت جرگہ میں بنوں سے 40 عمائدین نے شرکت کی۔

جرگہ میں عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بنوں سمیت جنوبی اضلاع میں امن امان کے لئے حکومت سخت اقدامات اُٹھائے جائیں۔

ضلع میں ایک امن ریلی کے دوران تشدد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے صوبائی حکومت اور عمائدین کے درمیان ہونے والا جرگے میں دونوں فریقین نے بنیادی طور پر تمام نکات پر اتفاق کیا۔

ایک روز قبل، مقامی عمائدین اور مظاہرین کے نمائندوں پر مشتمل جرگے نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اپنی میٹنگ میں 16 مطالبات پیش کیے تھے، جنہیں بعد میں کے پی حکومت کو بھجوا دیا گیا تھا۔

اپنے مطالبات میں، جرگے نے ہتھیار ڈالنے والے طالبان عسکریت پسندوں کے مراکز کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے گشت کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

’اچھے طالبان‘ گروپوں کی موجودگی ایک متنازعہ موضوع بن گیا ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہے اور یہ خیبرپختونخوا اور مرکز دونوں میں حکومت کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے اپیکس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ کچھ مسلح افراد خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کررہے ہیں یا سرکاری اداروں کی نمائندگی کا دعویٰ کر تے ہیں، وہ علاقے میں گھوم رہے ہیں اورحکومتی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے فورم کو یہ بھی بتایا گیا کہ صوبے کے عوام، پولیس اور حکومت کو اس پر شدید تحفظات ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپخونخوا نے کہا کہ انہوں نے پولیس کو ایسے افراد کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment