بنوں میں پشتون عوام پر ریاستی حملہ: ہماری بقا مزاحمت میں ہے،خلیل بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق چیئرمین خلیل بلوچ نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں میں امن مارچ پر ریاستی حملے کے ردعمل میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ
میں بنوں میں پاکستانی فوج کی صریح دہشت گردی اور جارحیت کی مذمت کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اندوہناک واقعے میں میں پشتون قوم کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ریاستی تشدد کا یہ عمل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور پشتون قوم اور بلوچ قوم کے خلاف نسل کشی کا تسلسل ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

https://twitter.com/ChairmanKhalilB/status/1814407038061236265

خلیل بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ حملہ پرامن مظاہرین پر کیا گیا جو سفید جھنڈے اٹھائے امن کے لیے مارچ کر رہے تھے۔ اس کے باوجود ریاستی دہشت گرد فوج نے ان نہتے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔

انہوںنے سوال کیا کہ کیا ریاست پاکستان اس کا کوئی جواز پیش کر سکتی ہے؟میں پشتون عوام سے کہتا ہوں کہ ہماری بقا مزاحمت میں ہے۔ اگر ہم اپنی مزاحمت کو کم کرتے ہیں تو یہ ریاست ہمیں اسی طرح مارتی رہے گی۔ تاہم پشتون مزاحمت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ جدوجہد اب یکطرفہ نہیں ہو گی۔ دہشت گرد ریاست کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ یاد رکھیں، جب قومیں مزاحمت کا فیصلہ کرتی ہیں، کرائے کی فوجیں ان کے خلاف کھڑی نہیں ہو سکتیں۔ یہ ایک تحریری پیشن گوئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment