انسانی حقوق کے سرگرم کارکن و وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کیخلاف پشتونوں کی امن مارچ پر ریاستی حملے پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بنوں میں ہزاروں کی تعداد میں امن کا پرچم اٹھائے احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ بربریت کی ایک اور مثال ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ نہتے لوگوں بچے نوجوان اور بزرگ اپنی سرزمین پر جاری خونی کھیل کے خلاف نکلے تھے جن سے بات کرنے مطالبات ماننے کے بجائے ریاست نے ان پر یلغار کیا ۔
سمی بلوچ نے کہا کہ بلوچستان سے لے کر خیبر پختونخوا میں ریاستی سرپرستی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے یہاں تک کہ اپنے وطن پر امن کی خواہش رکھنے والوں پر بھی اندھا دھند گولیاں برسائی جاتی ہیں۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت ایک دن سب کچھ جلا کر بھسم کردے گی۔
انہوںنے کہا کہ اس مشکل کی گھڑی میں اپنے غیور پشتون بھائیوں کے ساتھ ہیں اور انکے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر عملا ہر ظلم اور نا انصاف یوں کا خاتمہ کریں گے۔