یورپی قانون سازوں نے آج جمعرات کے روز ارزولا فان ڈئر لاین کو دوسری پانچ سالہ مدت کے لیے یورپی کمیشن کا صدر کا منتخب کر لیا۔ ایک خفیہ رائے شماری کے بعد یورپی پارلیمان کی صدر روبرٹا میٹسولا نے فان ڈئر لاین کی فتح کا اعلان کیا۔
ان کے دوبارہ با آسانی انتخاب نے اس ستائیس رکنی اتحاد کے لیے قیادت کے تسلسل کو یقینی بنا دیا ہے۔
جرمنی کی سابقہ وزیر دفاع رہنے والی فان ڈیر لاین نے 720 نشستوں والی مقننہ میں ڈالے گئے 707 ووٹوں میں سے 401 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے خلاف 284 ووٹ ڈالے گئے جبکہ 15 ارکان اس موقع پر غیر حاضر رہے اور سات ووٹوں کو غیر موثر قرار دیا گیا۔
سات بچوں کی والدہ اور یورپی کمیشن کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون فان ڈیر لاین کو اپنی موجودہ پوزیشن پر کام جاری رکھنے کے لیے 720 رکنی یورپی یونین کی پارلیمان میں کم از کم 361 قانون سازوں کی حمایت کی ضرورت تھی، اور انہوں نے با آسانی اس ہدف سے 46 زیادہ ووٹ حاصل کیے۔
جرمن چانسلر اولاف شولس نے فان ڈئر لائن کے انتخاب کے بعد انہیں فوری طور پر مبارکباد دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں کہا، یہ مشکل وقت میں یورپی یونین میں ہمارے ایکشن لینے کی صلاحیت کا ایک واضح اشارہ ہے۔‘‘
اسٹراسبرگ میں اپنے انتخاب سے قبل یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران قانون سازوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے فان ڈئر لاین نے یورپی یونین کی خوشحالی اور سلامتی پر مرتکز اپنا پروگرام پیش کیا۔ انہوں نے فضائی اور سائبر دفاع کے اہم منصوبوں پر مشتمل ایک یورپی دفاعی یونین‘‘ کے قیام اور یورپ کے ماحول دوست توانائی کے استعمال پر منتقلی کے راستے پر سفر جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
یورپ میں روایتی طور پر دفاعی پالیسی کے حوالے سے فیصلے رکن ممالک کی حکومتیں اور نیٹو کرتے رہے ہیں۔ لیکن روس کے یوکرین پر حملے اور یورپ کے اپنے تحفظ کے لیے امریکہ پر انحصار کرنے سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے بعد یورپی کمیشن مشترکہ دفاع کے مزید منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
فان ڈئر لاین کا مزیدکہنا تھا، اگلے پانچ سال اس بات کا تعین کریں گے کہ اگلی پانچ دہائیوں میں یورپ کی دنیا میں کیا جگہ ہوگی۔ یہ فیصلہ کریں گے کہ ہم اپنا مستقبل خود بناتے ہیں یا اسے واقعات اور دوسروں کے سہارے تشکیل ہونے دیتے ہیں۔‘‘
فان ڈئر لاین نے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ حالیہ ملاقات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا فان ڈئر لاین نے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ حالیہ ملاقات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
روس کے خلاف لڑائی میںیوکرین کی حمایت کرنے جاری رکھنے کا عہد کرتے ہوئے فان ڈئر لاین نے کہا کہ یورپ کی آزادی داؤ پر لگی ہوئی ہے اور اسے دفاع میں مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
انہوں نے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ حالیہ ملاقات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خوشنودی حاصل کرنے کا مشن‘‘ قرار دیا۔