خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی علاقے غزہ پٹی میں جنگ اور بمباری سے تباہی کے نتیجے میں نصف سے زیادہ زرعی زمین فصلیں اگانے کے قابل نہیں رہی۔
سیٹلائٹ تصاویر سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس فلسطینی خطے میں اراضی کے ایک بہت بڑے حصے پر اب کوئی کاشت نہیں ہو سکتی۔
جنگ سے تباہ حال غزہ پٹی کی سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ کی زرعی زمین ناقابل کاشت ہو چکی ہے اور یہ اراضی اب بھوک کے شکار شہریوں کا پیٹ بھرنےکے قابل نہیں رہی۔
آٹھ ماہ سے جاری اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں بھوک پھیل چکی ہے۔ حال ہی میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے غزہ میں انسانوں کی شدید بھوک کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا تھا، ”غزہ میں اب بھوک اور قحط جیسی تباہ کن صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔‘‘
مئی 2017 ء اور 2024 ء کے درمیان لی گئی سیٹلائٹ تصویروں کا تجزیہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر (UNOSAT) اور اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم FAO نے کہا ہے کہ فوڈ سکیورٹی کے لیےانتہائی اہم غزہ کے 57 فیصد زرعی رقبے کی پیداواری صلاحیتں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
UNOSAT کے ایک حالیہ بیان کے مطابق مئی 2024 میں غزہ پٹی میں فصلوں کی صحت اور زرعی زمین کی زرخیزی پچھلے سات موسموں کے اوسط معیار کے مقابلے میں واضح تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا، زرعی زمین کی کوالٹی کی اتنی زیادہ خرابی کی بنیادی وجوہات تنازعات سے متعلق سرگرمیاں بشمول گولہ باری، بھاری بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت اور بم دھماکے وغیرہ ہیں۔‘‘